Tafseer-Ibne-Abbas - Ash-Shura : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور جس کو راہ نہ سجھائے اللہ تو کوئی نہیں اس کا کام بنانے والا اس کے سوا9 اور تو دیکھے گناہ گاروں کو جس وقت دیکھیں گے عذاب کہیں گے کسی طرح پھرجانے کی بھی ہوگی کوئی راہ10
9  یعنی اللہ کی توفیق و دستگیری ہی سے آدمی کو عدل و انصاف اور صبر و غفر کی اعلیٰ خصلتیں حاصل ہوسکتی ہیں وہ ان بہترین اخلاق کی طرف راہ نہ دے تو کون ہے جو ہاتھ پکڑا کر اخلاقی پستی اور رسوائی کے گڑھے سے ہم کو نکال سکے۔ 10  یعنی کوئی ایسی سبیل بھی ہے کہ ہم دنیا کی طرف پھر واپس کردیے جائیں اور اس مرتبہ وہاں سے خوب نیک بن کر حاضر ہوں۔
Top