Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 32
وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ
وَمِنْ اٰيٰتِهِ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں الْجَوَارِ : کشتیاں فِي الْبَحْرِ : سمندر میں كَالْاَعْلَامِ : پہاڑوں کی طرح
اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں چلتے ہوئے جہاز ہیں جیسے پہاڑ
32 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کے زمانہ میں بھی عربوں کے ہاں بحری تجارت ہوتی تھی اگرچہ وہ اتنے بلند پیمانہ پر نہ تھی تاہم وہ لوگ سمندری کشتیوں میں سفر کرتے تھے اور کشتیاں اگرچہ انسان ہی بناتے ہیں اور انسان ہی سوار ہوتے ہیں لیکن اگر انسان ذرا غور کرے تو اس کو معلوم ہوجائے کہ جس میٹریل (Material) سے یہ کشتایں تیار کی جاتی ہیں وہ کس نے تیار کیا ہے ؟ ایجادات کا سارا انحصار تو خام مال پر ہے اگر یہ خام مال نہ ہوتا تو کوئی شخص کیا کوئی چیز ایجاد کرلیتا ؟ وہ عقل و فکر جس کے بل بوتے پر انسان یہ سب کچھ کر رہا ہے وہ کہاں سے آئی ؟ وہ قدرتی ہوائیں جو ان کشتیوں اور سمندروں کو موافق آنے سے دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرا دیتی ہے وہ کس کے قبضہء قدرت میں ہیں ؟ وہ پانی جس پر یہ کشتیاں اور جہاز تیرتے ہوئے بلند سے بلند محلات کی طرح نظر آتے ہیں اس پانی میں یہ خاصیت کس نے رکھی ؟ انسان کا اس سارے قصہ میں کیا کردار ہے ؟ یہی کہ اس نے خداداد عقل و فکر سے اس خام مال کو ایک خاص طریقہ سے جوڑ دیا جب کہ ان چیزوں کے جڑنے کی صلاحیت اللہ نے رکھ دی تھی۔ اس صلاحیت کے باعث اس نے اس سے کام لے لیا بلاشبہ یہ انسان کا ایک کمال ہے لیکن اصل کمال تو اس ربِّ کریم کا ہے جس نے انسان کو بنایا جو میٹریل (Material) اس نے استعمال کیا اس کو بھی ، پھر کتنی ناقدری ہے کہ انسان اپنے کیے کو تو ایک بہت بڑا کمال تصور کرے لیکن جس نے یہ سب کچھ بنایا ہے اس کی طرف دھیان ہی نہ دے حالانکہ جس اللہ نے یہ سب کچھ بنایا ہے اس کے قبضہء قدرت میں اب ہر ایک چیز ہے اگر وہ چاہے تو ہوا کو حکم دے دے اور وہ ایک پل بھر میں اس سارے بنے ہوئے کھیل کو غرق کر کے رکھ دے اور نتیجہ یہ نکلے کہ نہ کشتی رہے اور نہ کشتی والا جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے۔
Top