Tafseer-e-Majidi - Al-Ankaboot : 33
لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠   ۧ
لِلَّذِيْنَ : جو لوگ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں رکھتے بِالْاٰخِرَةِ : آخرت پر مَثَلُ : حال السَّوْءِ : برا وَلِلّٰهِ : اور اللہ کے لیے الْمَثَلُ الْاَعْلٰى : شان بلند وَهُوَ : اور وہ الْعَزِيْزُ : غالب الْحَكِيْمُ : حکمت والا
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی بری مثال ہے اور اللہ کے لئے بلند ترین صفات ثابت ہیں اور وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے
60 ۔ جو لوگ آخرت پر ایمان اور یقین نہیں رکھتے ان کی بری مثال اور بری حالت ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بلند ترین اور بڑے اعلیٰ درجے کی صفات ثابت ہیں اور وہ بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی منکرین کی دنیا اور آخرت میں بری حالت ہے ۔ یہاں بیوقوفی اور جہالت میں مبتلا اور وہاں عذاب میں مبتلا ، اللہ تعالیٰ کی یہ لوگ جو صفات بیان کرتے ہیں وہ ان سے بہت بلند صفات کا مالک ہے زبردست کے ساتھ چونکہ کمال حکمت کا مالک ہے بمقتضائے حکمت ان کی جلدی گرفت نہیں کرتا۔ فائدے بجائے ننگ و عار کے۔ بعض مفسرین نے ایمس کہ علی ھون کی تفسیر اس طرح بھی کی ہے کہ اس لڑکی کو ذلت کے ساتھ زندہ کھے یا مٹی میں دبا دے یعنی لڑکی کو زندہ رکھے مگر اس کے ساتھ ذلت آمیز برتائو کرے مکہ کے کافروں میں لڑکی کے ساتھ ہی ذلت آمیز برتائو تھا۔
Top