Maarif-ul-Quran - Al-Muminoon : 17
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ
وَ : اور لَقَدْ خَلَقْنَا : تحقیق ہم نے بنائے فَوْقَكُمْ : تمہارے اوپر سَبْعَ : ساتھ طَرَآئِقَ : راستے وَمَا كُنَّا : اور ہم نہیں عَنِ : سے الْخَلْقِ : خلق (پیدائش) غٰفِلِيْنَ : غافل
اور ہم نے بنائے تمہارے اوپر سات رستے اور ہم نہیں ہیں خلق سے بیخبر
وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَاۗىِٕقَ ، طرائق، طریقة کی جمع ہے اس کو بمعنی طبقہ بھی لیا جاسکتا ہے جس کے معنے یہ ہوں گے کہ تہ بہ تہ سات آسمان تمہارے اوپر بنائے گئے اور طریقہ کے معنے مشہور راستہ کے ہیں۔ یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ سب آسمان فرشتوں کی گزرگاہیں ہیں جو احکام لے کر زمین پر آتے جاتے ہیں۔
وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِيْنَ اس میں یہ بتلایا کہ ہم نے انسان کو صرف پیدا کر کے نہیں چھوڑ دیا اور اس سے غافل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے نشو و نما اور رہائش و آسائش کے سامان بھی مہیا کئے جس کی ابتداء آسمانوں کی تخلیق سے ہوئی پھر آسمان سے بارش برسا کر انسان کے لئے غذا اور اس کی آسائش کا سامان پھلوں پھولوں سے پیدا کیا جس کا ذکر بعد کی آیت میں اس طرح فرمایا۔
Top