Tafseer-e-Usmani - Al-Muminoon : 17
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ
وَ : اور لَقَدْ خَلَقْنَا : تحقیق ہم نے بنائے فَوْقَكُمْ : تمہارے اوپر سَبْعَ : ساتھ طَرَآئِقَ : راستے وَمَا كُنَّا : اور ہم نہیں عَنِ : سے الْخَلْقِ : خلق (پیدائش) غٰفِلِيْنَ : غافل
اور ہم نے بنائے ہیں تمہارے اوپر سات راستے6  اور ہم نہیں ہیں خلق سے بیخبر7
6  " طرائق " کے معنی بعض مفسرین و لغویین کے نزدیک طبقات کے ہیں۔ یعنی آسمان کے ساتھ طبقے اوپر نیچے بنائے۔ فہذا کما قال " کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقاً " (نوح، رکوع 1 ' آیت 15) اور بعض نے طرائق کو راستوں کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی سات آسمان بنائے جو فرشتوں کی گزرگاہیں ہیں۔ بعض معاصر مصنفین نے " سبع طرائق " سے سات سیاروں کے مدارات مراد لیے ہیں۔ واللہ اعلم۔ 7 ہر چیز پورے انتظام و احکام اور خبرداری سے بنائی ہے اور اس کی حفاظت وبقاء کے طریقوں سے ہم پورے باخبر ہیں۔ اجرام سماویہ اور مخلوقات سفلیہ میں کوئی چیز نہیں جو ہمارے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہو۔ ورنہ سارا انتظام ہی درہم برہم ہوجائے۔ (يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْــرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ) 57 ۔ الحدید :4)
Top