Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 17
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ
وَ : اور لَقَدْ خَلَقْنَا : تحقیق ہم نے بنائے فَوْقَكُمْ : تمہارے اوپر سَبْعَ : ساتھ طَرَآئِقَ : راستے وَمَا كُنَّا : اور ہم نہیں عَنِ : سے الْخَلْقِ : خلق (پیدائش) غٰفِلِيْنَ : غافل
اور یہ ہماری ہی کارفرمائی ہے کہ تمہارے اوپر سات راستے بنا دیئے اور ہم مخلوق کی طرف سے غافل نہ تھے
طرائق کا مفہوم اور آسمان کی رنگا رنگی وبو قلمونی کی طرف اشارہ : 17۔ انسان اگر ذرا غوروفکر سے کام لے تو وہ جان سکتا ہے کہ حقیقت کے دلائل و شواہد اسے تین راہوں سے گھیرے ہوئے ہیں خود اس کی ہستی کا ہر گوشہ سر تا سر دلیل حقیقت ہے اور یہ قرآن کریم کی اصطلاح میں ” عالم انفس “ کا ہے اس سے باہر جو کچھ ہے وہ بھی حقیقت کا پیام ہے یہ ” عالم آفاق “ ہے پھر عالم آفاق کے دلائل کی بھی دو قسمیں ہوئیں ۔ کائنات ہستی کی خلقت وقوانین کے مظاہر یہ آیات کونیہ ہیں۔ اقوام ماضیہ کے احوال وتجارب یہ براہین علمیہ ہیں ، قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ ان تمام اقسام سے استدلال کرتا اور ایک قسم کے دلائل کے بعد دوسری قسم کے دلائل بیان کرتا ہے زیر نظر سورت میں علی الترتیب تینوں قسموں کے دلائل جمع کئے گئے ہیں گزشتہ آیت میں آیت 12 سے 16 تک انسان کو توجہ دلائی ہے کہ وہ کود اپنی خلقت پر غور کرے اور اب اس آیت 17 سے 22 تک عالم آفاق کے دلائل کونیہ بیان کئے ہیں کہ اپنے نفس کے باہر کے عالم میں تفکر کرے اور اس کے بعد آیت 23 سے 53 تک گزشتہ دعوتوں کا ذکر کرکے استدلال کرے گا تاکہ حوادث ماضیہ سے حال ومستقبل کے لئے انسان عبرت پکڑے ۔ چناچہ زیر نظر آیت میں ربوبیت کے اہتمام وانتظام کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کو پیدا کرکے اس کے خیر وشر سے بےتعلق نہیں ہوا بلکہ وہ برابر اس کی پرورش وپرداخت فرما رہا ہے اس نے رنگا رنگ سات آسمان بنائے اور برابر ان کی دیکھ بھال بھی کئے جارہا ہے ، قرآن کریم کی تفہیم کرانے کا طریقہ بھی بڑا عجیب اور دل نشین ہے کہ وہ ایک لفظ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے اس کا مطلب کھلتا جاتا ہے اور اس طرح زمانہ بیسیوں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے اور ہر تبدیلی اس کے اسی ایک لفظ پر فٹ ہوتی چلی جاتی ہے اور آدمی پکار اٹھتا ہے کہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ گزشتہ بہت سی آیات میں (سبع سموات) کا لفظ بیان کیا گیا اور زیر نظر آیت میں خاموشی کے ساتھ اس کو (سبع طرائق) کہہ دیا اور اس لفظ نے لفظ آسمان کی ساری حقیقت واضح کر کے رکھ دی اور نظام شمسی کا وہ سارا راز جو اس وقت آشکارا ہوا بلکہ ہو رہا ہے اس کے اندر بند کردیا تھا جس کو لوگ آہستہ آہستہ کھول رہے ہیں اور اس وقت تک آشکارا ہوا ہے وہ بھی اور ابھی نہ معلوم کیا کچھ ہے جو آشکارا ہوگا لیکن قرآن کریم کے اس اشارہ میں سب کچھ بند کر کے رکھ دیا جوں جوں اور جیسے جیسے کھلتا جائے گا وضاحت مزید ہوتی جائے گی اور ہمارا ایمان ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ان میں سے جو اس وقت تک ظاہر ہوئے اور جو ابھی ظاہر ہوں گے سب پر محیط ہے ۔ اور کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ نہیں ۔
Top