Jawahir-ul-Quran - Aal-i-Imraan : 6
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ
وَ : اور لَقَدْ خَلَقْنَا : تحقیق ہم نے بنائے فَوْقَكُمْ : تمہارے اوپر سَبْعَ : ساتھ طَرَآئِقَ : راستے وَمَا كُنَّا : اور ہم نہیں عَنِ : سے الْخَلْقِ : خلق (پیدائش) غٰفِلِيْنَ : غافل
اور ہم نے بنائے ہیں تمہارے اوپر سات راستے15   اور ہم نہیں ہیں خلق16 سے بیخبر
15:۔ ” وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ “ تا ” وَ صِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ “ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے پہلی دلیل میں انسان کی پیدائش کا ذکر دوسری اور تیسری دلیلوں میں انسان پر کیے گئے گوناگوں انعامات کا ذکر کیا گیا ہے اس دلیل کے تین حصے ہیں پہلے حصے میں انسانوں کی پیدائش کا ذکر ہے دوسرے حصے میں آسمانوں سے بارش برسانے اور تیسرے حصے میں زمین انواع و اقسام رزق پیدا کرنے کا ذکر ہے۔ اس سے ایک طرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ قادر و متصرف، کارساز اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور دوسری طرف یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تمام غلے، پھل اور میوے اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائے ہیں لہذا ان چیزوں سے نذر و نیاز بھی صرف اسی کے نام کی دیا کرو۔ ” وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ الخ “ یہ دلیل کا پہلا حصہ ہے جس سے دعوے کا پہلا حصہ ثابت ہوتا ہے کہ متصرف و کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ طرائق، طریقۃ کی جمع ہے اور اس سے مراد آسمان ہیں کیونکہ جو چیز کسی دوسری چیز کے اوپر ہو اسے طریقۃ کہتے ہیں اور آسمان چونکہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں اس لیے انہیں طرائق کہا گیا یا طریقۃ، راستے کے معنی میں ہے اور آسمانوں میں چونکہ فرشتوں کے صعود و نزول کے لیے راستے ہیں اس لیے انہیں طرائق کہا گیا ہے قیل للسموت طرائق لان بعضھا فوق بعض و العرب تسمی کل شیء فوق شیء طریقۃ وقیل لانھا طرائق الملائکۃ (قرطبی ج 12 ص 110) ۔ قال علی بن یسی سمیت بذالک لانھا طرائق للملئکۃ فی العروج واسوط والطیران الخ (کبیر ج 6 ص 277 کذا فی جامع البیان ص 299) ۔ 16:۔ ” وَ مَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ الخ “ اس سے دعوے کا دوسرا حصہ ثابت ہوتا ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ ایسا بےپایاں جہان پیدا کر کے ہم اس مخلوق سے بیخبر نہیں ہیں بلکہ ہم باقاعدہ ساری مخلوقات کی دیکھ بھال، سارے عالم کی تدبیر اور تمام جہانوں کی پرورش کر رہے ہیں۔ بل نعلم جمیع المخلوقات جلھا و دقھا فندبر امرھا (جامع البیان) جب سارے جہان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور سارے عالم کا مدبر وقیوم اور سب کچھ جاننے والا بھی وہی ہے تو سب کا کارساز بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔
Top