Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 17
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ
وَ : اور لَقَدْ خَلَقْنَا : تحقیق ہم نے بنائے فَوْقَكُمْ : تمہارے اوپر سَبْعَ : ساتھ طَرَآئِقَ : راستے وَمَا كُنَّا : اور ہم نہیں عَنِ : سے الْخَلْقِ : خلق (پیدائش) غٰفِلِيْنَ : غافل
اور ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہم مخلوق کے باب میں بیخبر نہ تھے،14۔
14۔ (کہ اناڑیوں کی طرح مخلوق کی ضرورتوں اور حکمتوں مصلحتوں کو نظر انداز کرجائیں) (آیت) ” طرآئق “۔ طریقۃ کے لفظی معنی راستہ کے ہیں۔ مجازا مراد یہاں آسمانوں سے لی گئی ہے۔ یعنی السموت السبع (ابن کثیر عن مجاہد) الطرائق السموت (ابن جریر عن ابن زید) اور بعض نے براہ راست ہی اس کے معنی آسمانوں کے لئے ہیں اور کہا ہے کہ جو چیز کسی چیز کے اوپر ہوتی ہے وہ بھی عربی میں میں طریقۃ ہی کہلاتی ہے۔ الطرائق السموت لانہ طوارق والعرب تسمی کل شیء فوق شیء طریقۃ (ابن جریر) یا آسمانوں کو طرائق سے یہاں اس لئے تعبیر کیا گیا کہ ان میں فرشتوں کی آمد ورفت اور ستاروں کی گردش کے لئے راہیں اور راستے ہیں۔ بعضھا فوق بعض (کشاف) اولانھا طرق الملائکۃ وقیل الافلاک لانھا طرائق الکواکب فیھا مسیرھا (کشاف)
Top