Maarif-ul-Quran - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اور کہہ اے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کی چھیڑ سے
وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ ، وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ ، لفظ ھمز کے معنے دھکا دینے اور دبانے کے آتے ہیں۔ اور پیچھے کی طرف سے آواز دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ دعا اپنے مفہوم عام کے اعتبار سے ایک جامع دعا شیطان کے شر اور مکر سے بچنے کے لئے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اس دعا کی تلقین فرمائی ہے تاکہ ایسے غصہ اور غیظ و غضب کی حالت میں جبکہ انسان کو اپنے نفس پر قابو نہیں رہتا اور اس میں ھمز شیطان کا دخل ہوتا ہے اس سے محفوظ رہیں۔ اس کے علاوہ شیاطین اور جنات کے دوسرے آثار اور حملوں سے بچنے کے لئے بھی یہ دعا مجرب ہے۔ حضرت خالد ؓ کو شب میں نیند نہ آتی تھی رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ کلمات دعا تلقین فرمائے کہ یہ پڑھ کر لیٹا کریں۔ انہوں نے پڑھا تو یہ شکایت جاتی رہی وہ دعا یہ ہے اعوذ بکلمات اللہ التامة من غضب اللہ و عقابہ و من شر عبادہ و من ھمزت الشیطین و ان یحضرون۔
Top