Al-Qurtubi - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں
آیت نمبر 97-98 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقل رب اعوذ بک من ھمزات الشیطن۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من ھمزات الشیٰطین۔ الھمزات جمع ہے ھمزہ کی الھمزہ کا لغوی معنی ہے دفع کرنا، دور کرنا، کہا جاتا ہے : ھمزہ ولمزہ اس نے اسے دور کیا۔ لیث نے کہا الھمز کا معنی ہے پیچھے سے کلام کرنا اور اللمز کا معنی ہے سامنے باتیں کرنا۔ شیطان وسوسہ ڈالتا ہے، ابن آدم کے سینے میں آہستہ آہستہ وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اعوذ بک من ھمزات الشیاطین یعنی (کہیے) میں شیطان کی وسوسہ اندازی سے پناہ مانگتا ہوں جو اللہ کے ذکر سے دور کردیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے آپ شیطان کے وسوسہ اور دخل اندازی سے پناہ مانگتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دور کردیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے آپ شیطان کے وسوسہ اور دخل اندازی سے پناہ مانگتے تھے۔ (مسندا مام احمد، حدیث نمبر 3828) ۔ ا بوالہیثم نے کہا : جب آہستہ کلام کرے اور اسے پوشیدہ کرے تو اسے الھمس کہتے ہیں۔ شیر کو ہموس کہتے ہیں کیونکہ وہ اتنا آہستہ چلتا ہے کہ اس کے چلنے کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ یہ سورة طہ میں گزرچکا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ اور مومنین کو شیطان کی تحریک اور وسوسہ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے۔ یہ غصہ کا ابھار ہے جس پر انسان ضبط نہیں کرسکتا گویا یہ وہ ہے جو مومنین کو کفار کیساتھ پہنچتی ہے تاکہ مقابلہ شروع ہوجائے اسی وجہ سے یہ اس آیت کے ساتھ متصل ہے، غصہ کی زیادتی اور شیطان کی شدت کی طرف سے ہوتی ہے۔ آیت میں اس سے پناہ مانگی گئی ہے۔ سورة ا عراف کے آخر میں اس کا بیان تفصیلا گزرچکا ہے۔ اور کتاب کے آغاز میں بھی گزرچکا ہے۔ علی بن حرب بن محمد طائی سے مروی ہے فرمایا ہمیں سفیان نے بتایا انہوں نے ایوب سے انہوں نے محمد بن حبان سے روایت کیا کہ حضرت خالد رات کو جاگتے رہتے تھے انہوں نے اپنی بےخوابی کی شکایت نبی کریم ﷺ سے کی تو آپ نے انہیں ان کلمات سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضب اللہ و عقابہ ومن شر عبادۃ ومن ھمزات الشیاطین وان یحضرون۔ (جامع ترمذی، حدثنا محمد بن خاتم، جلد 2، صفحہ 191) ۔ ا بو دائود کی کتاب میں ہے حضرت عمر ؓ نے کہا : ہمزہ سے مراد الموتتہ ہے ابن ماجہ نے کہا : ا لموتتہ سے مراد جنون ہے اور جنون سے پناہ مانگنا موکد ہے، حضرت ابی کی قرأت میں رب عائذابک من ھمزات الشیاطین وعائذا بک ان یحضرون ہے یعنی میں پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان میرے امور میں میرے ساتھ ہو، کیونکہ شیطان جب انسان کے پاس حاضر ہوتے ہیں تو وہ طعنہ زنی کے لئے تجاوز کرتے تھے اور جب وہ حاضر نہیں ہوتے تو طعنہ زنی نہیں ہوتی۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر سے مروی ہے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ شیطان تم میں سے ہر شخص کے پاس ہر کام میں موجود ہوتا ہے حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی حاضر ہوتا ہے جب کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرے تو وہ اس سے مٹی وغیرہ جھاڑے پھر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔ اور جب کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ کس کھانے میں برکت ہو۔ (صحیح مسلم، استحباب لعق الاصابع والقصعۃ واکل اللقمۃ الساقطۃ، جلد 2، صفحہ 176)
Top