Tafseer-e-Madani - An-Nahl : 63
تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم لَقَدْ اَرْسَلْنَآ : تحقیق ہم نے بھیجے اِلٰٓى : طرف اُمَمٍ : امتیں مِّنْ قَبْلِكَ : تم سے پہلے فَزَيَّنَ : پھر اچھا کردکھایا لَهُمُ : ان کے لیے الشَّيْطٰنُ : شیطان اَعْمَالَهُمْ : ان کے اعمال فَهُوَ : پس وہ وَلِيُّهُمُ : ان کا رفیق الْيَوْمَ : آج وَلَهُمْ : اور ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب دردناک
(اور ان کا یہ بغض وعناد کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں، بلکہ) اللہ کی قسم ہم آپ سے پہلے بھی کتنی ہی امتوں کی طرف رسول بھیج چکے ہیں، مگر شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو ایسا خوشنما بنادیا (کہ انہوں نے رسولوں کی بات کو مان کر نہ دیا) سو وہی آج ان کا بھی دوست ہے، اور ان لوگوں کے لئے بھی ایک بڑا ہی دردناک عذاب طے ہے،2
121۔ اہل کفر وباطل کے لئے شیطان کی تزیین وتسویل ذکر وبیان۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پہلی امتوں کو بھی انبیائے رسل کے ذریعے حق کی دعوت دی گئی مگر شیطان نے ایسا خوشنما بنادیا ان کے لئے ان کے اعمال کو یہ وہ قبول حق کے لئے تیار نہ ہوئے۔ معلوم ہوا کہ برائی کو اچھائی کی شکل میں دکھانا شیطان کا کام اور اس کا پرانا اور معروف حربہ ہے۔ خواہ وہ جنوں میں ہوں یا انسانوں میں سے۔ سو اس سے ان اہل زیغ وضلال اور اصحاب فتنہ و فساد کو اپنے بارے میں سوچنا اور غور کرنا چاہئے جو کہ طرح طرح کی بدعات و خرافات اور شرکیات کو دین ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی تحریفات وتلبیسات سے کام لیتے ہیں۔ اور انہوں نے سادہ لوح عوام کو اپنے پیچھے لگا رکھا ہے۔ ان کو اپنے بارے میں سوچنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں ؟ کس راہ پر گامزن ہیں ؟ اور انجام کار وہ کہاں پہنچنے والے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف لوگوں کی گمراہی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب یہی رہا کہ شیطان نے ان کے برے اعمال کو ان کے لئے خوشنما بنادیا۔ جس کی بناء پر اہل باطل اپنے آپ کو ٹھیک کہتا اور درست سمجھتا ہے تو ایسے میں وہ اپنی برائی کو چھوڑے تو کیسے اور کیونکر ؟ سو تزیین شیطان ضلالت و گمراہی کا ایک سبب رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے اور اس کی بناء پر کتنے ہی لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ سو دعوت حق و ہدایت سے منہ موڑنا اور اعراض و روگردانی برتنا خساروں کا خسارہ اور دائمی ہلاکت و تباہی کا پیشہ خیمہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Top