Al-Qurtubi - Ash-Shura : 47
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ
فَاِنْ : پھر اگر اَعْرَضُوْا : وہ اعراض برتیں فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو عَلَيْهِمْ : ان پر حَفِيْظًا : نگہبان بنا کر اِنْ عَلَيْكَ : نہیں آپ کے ذمہ اِلَّا الْبَلٰغُ : مگر پہنچا دینا وَاِنَّآ : اور بیشک ہم اِذَآ : جب اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ : چکھاتے ہیں ہم انسان کو مِنَّا : اپنی طرف سے رَحْمَةً : کوئی رحمت فَرِحَ بِهَا : خوش ہوجاتا ہے وہ اس پر وَاِنْ تُصِبْهُمْ : اور اگر پہنچتی ہے ان کو سَيِّئَةٌۢ : کوئی تکلیف بِمَا قَدَّمَتْ : بوجہ اس کے جو آگے بھیجا اَيْدِيْهِمْ : ان کے ہاتھوں نے فَاِنَّ الْاِنْسَانَ : تو بیشک انسان كَفُوْرٌ : سخت، ناشکرا
(ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آموجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا
(آیت نمبر 47 ) استجیبوا لربکم اس نے تمہیں ایمان اور اطاعت کی طرف جو دعوت دی ہے اس پر لبیک کہو : استجاب اور اجاب دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ مالکم من ملجا کوئی ایسی پناہ گاہ نہیں ہوگی جو تمہیں عذاب سے نجات دے۔ وما لکم من نکیر۔ کوئی مددگار نہیں جو تمہاری مدد کرے (1) ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نکیر منکر کے معنی میں ہے جس طرح الیم ‘ منولم کے معنی میں ہے یعنی جب اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل فرمائے گا تو اس روز تم کسی انکار کرنے والے کو نہ پائو گے ؛ یہ ابن ابی حاتم نے بیان کیا ہے ؛ یہ کلبی کا قول ہے (2) ۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے وہ ان گناہوں کے انکار پر قادر نہ ہوں گے جن سے وہ آگاہ ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : من نکیر سے مراد ہے تم پر جو عذاب نازل ہوگا اس کو تبدیل کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ نکیر اور انکار کا معنی ہے ناپسندیدہ چیز کو تبدیل کرنا۔
Top