Baseerat-e-Quran - Ash-Shura : 47
اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ
اِسْتَجِيْبُوْا : مان لو۔ قبول کرلو لِرَبِّكُمْ : اپنے رب کے لیے (اپنے رب کی بات کو) مِّنْ : سے قَبْلِ : اس (سے) پہلے اَنْ يَّاْتِيَ : کہ آجائے يَوْمٌ : ایک دن لَّا مَرَدَّ لَهٗ : نہیں پھرنا اس کے لیے۔ ٹلنا اس کے لیے مِنَ اللّٰهِ : اللہ کی طرف سے مَا لَكُمْ : نہیں تمہارے لیے مِّنْ مَّلْجَاٍ : کوئی جائے پناہ يَّوْمَئِذٍ : اس دن وَّمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ نَّكِيْرٍ : کوئی انکار کرنا
لوگو ! اس دن آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مان لو جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں ہے۔ نہ اس دن کوئی پناہ حاصل کرنے کی جگہ ہوگی اور نہ تمہارے واسطے اللہ سے روک ٹوک کرنے والا ہوگا۔
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 50 : ملجائ ( ٹھکانہ ، پناہ کی جگہ) نکیر ( مکر جانا) اذقنا ( ہم نے چکھایا) فرح (خوش ہوگیا) کفور ( بہت زیادہ نا شکرا) یھب ( وہ دیتا ہے) اناث ( بیٹیاں ، لڑکیاں) الذکور (بیٹے ، لڑکے) یزوج ( وہ جوڑے بنا دیتا ہے) عقیما (بانجھ ، اولاد سے مایوس) تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 : دین اسلام نے توحید کا یہ بنیادی تصور پش کیا ہے کہ اس کائنات کے ذرے ذرے میں اور آخرت کے ہر فیصلے میں صرف ایک اللہ کو مکمل اختیار حاصل ہے اس کے سوا کوئی اس کے اس اختیار میں شریک نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز کے بنانے بگاڑنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے نظام کائنات کو چلا رہا ہے۔ وہ اپنی رحمت اور فضل و کرم ہے جس کو جتنادینا چاہتا ہے عطاء فرماتا ہے ۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ۔ کسی کو اولاد نرینہ دیتا ہے اور کسی کو لڑکیاں ہی لڑکیاں دیتا ہے ، کسی کو لڑکا اور لڑکی دونوں عطاء کرتا ہے اور کسی کو اس طرح بانجھ بنا دیتا ہے کہ میڈیکل کی ہزاروں ترقیات کے باوجود اولاد سے محروم ہوتا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح اس دنیا کے تمام معاملات اسی کے اختیار میں ہیں اسی طرح آخرت کے ہر فیصلے کا اختیار بھی ایک اللہ کو حاصل ہے۔ انسان کی سعادت یہ ہے کہ وہ قیامت کے آنے سے پہلے پہلے سچے دل سے توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح کے تمام تقاضوں کو پورا کرتا چلا جائے اور رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق چل کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لے۔ اللہ نے اس زندگی کے میدان کو اسی لئے عطاء فرمایا ہے کہ وہ اس میں نیک اور بھلی زندگی کو اختیار کرکے نجات کا سامان کرلے کیونکہ آخرت میں نہ تو عمل کا وقت ہوگا اور نہ وہاں سے دوبارہ دنیا میں آ کر اپنی غلطیوں کی اصلاح کا موقع ملے گا ۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لوگو ! قیامت کے اس دن کے آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مان لو جو ایسا دن ہوگا جو کسی کے ٹالنے سے ٹل نہ سکے گا ۔ نہ اس دن اللہ کی پناہ کے سوا پناہ کی جگہ مل سکے گی اور نہ اس دن تمہارے واسطے اللہ سے کوئی روک ٹوک کرنے والا ہوگا ۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آپ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیجئے ۔ ماننانہ ماننا یہ ہر انسان کا اپنا فعل ہے ۔ نہ ان کو سیدھے راستے پر چلانے کی آپ کی ذمہ داری ہے نہ آپ کو ان کا نگراں بنا کر بھیجا گیا ہے نہ آپ سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا کہ کس نے ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کیا اور کس نے کفر و شرک کا کیونکہ ہدایت دینا تو اللہ کا کام ہے آپ کا کام دین کی سچائیوں کو ہر شخص تک پہنچانا ہے اور بس۔ فرمایا کہ اب یہ تو انسان کا اپنا مزاج ہے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں سے نواز دیتا ہے تو وہ شکر ادا کرنے کی بجائے نا شکری کرنے لگتا ہے اور اپنے مال و دولت پر اترانے لگتا ہے اور اگر اپنے ہاتھوں سے کئے گئے اعمال کی وجہ سے اس پر کوئی مصیبت یا تنگی آجاتی ہے تو بےصبرے پن پر اتر آتا ہے۔ لیکن لوگوں کو یہ بات ذہن میں رکھ لینی چاہیے کہ وہ اللہ اگر کسی کو بہت کچھ عطاء فرماتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے اس کو چھین بھی سکتا ہے اور اس کو ہر طرح کی نعمتوں سے محروم بھی کرسکتا ہے ۔ جس طرح وہ کسی کو بیٹیاں دے دیتا ہے تو وہ بیٹوں کے لئے ترستا ہے اور بیٹے ہی بیٹے دے دیئے جائیں تو وہ بیٹی کی تمنا کرنے لگتا ہے کسی کو وہ بیٹا اور بیٹی دونوں نعمتوں سے نواز دیتا ہے اور کوئی اولاد کی نعمت ہی سے محروم رہتا ہے اور دونوں میں سے کسی کو یا دونوں کو بانجھ بنا دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہی ہر بات کی مصلحت کو سمجھتا ہے اور اسی کو سارا اختیار حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حسن عمل کی اور ہر نعمت پر شکر کی توفیق عطاء فرما دے اور ہماری دنیا اور آخرت کو بہتر بنا کر عذاب جہنم سے محفوظ فرما دے۔ آمین یا رب العالمین۔
Top