Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 47
اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ
اِسْتَجِيْبُوْا : مان لو۔ قبول کرلو لِرَبِّكُمْ : اپنے رب کے لیے (اپنے رب کی بات کو) مِّنْ : سے قَبْلِ : اس (سے) پہلے اَنْ يَّاْتِيَ : کہ آجائے يَوْمٌ : ایک دن لَّا مَرَدَّ لَهٗ : نہیں پھرنا اس کے لیے۔ ٹلنا اس کے لیے مِنَ اللّٰهِ : اللہ کی طرف سے مَا لَكُمْ : نہیں تمہارے لیے مِّنْ مَّلْجَاٍ : کوئی جائے پناہ يَّوْمَئِذٍ : اس دن وَّمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ نَّكِيْرٍ : کوئی انکار کرنا
بات مان لو اپنے رب کی (اے لوگوں ! ) قبل اس سے کہ آپہنچے ایک ایسا (ہولناک) دن جس کے لئے ٹلنے کی پھر کوئی صورت نہ ہوگی اللہ کی طرف سے اس دن نہ تو تمہارے لئے کوئی پناہ کی جگہ ہوگی اور نہ ہی تمہارے لئے کسی انکار کی کوئی گنجائش2
94 دعوت حق بطور زجر و تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حکم مان لو تم اپنے رب کا ۔ اے لوگو !۔ قبل اس سے کہ آپہنچے وہ ہولناک دن جس کے ٹلنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ پس اس فرصت حیات کو تم لوگ غنیمت جانو جو آج تمہیں میسر ہے کہ یہ لحظہ بہ لحظہ ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے۔ اور جب ہاتھ سے نکل گئی تو پھر اس کے واپس آنے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ لہذا جو ایمان سے محروم ہے وہ ایمان لا کر اور جو عمل صالح اور تقویٰ سے محروم ہے وہ عمل صالح اور تقویٰ کو اپنا کر اس ہولناک دن کی تیاری میں لگ جائے۔ اور زندگی کی محدود و مختصر فرصت کو غنیمت سمجھے ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التِّوْفِیْقَ ۔ بہرکیف اس ہولناک دن کے آنے کے بعد نہ کسی کیلئے کوئی پناہ ممکن ہوگی اور نہ ہی کسی کیلئے کسی طرح کے انکار کی کوئی گنجائش ہوگی۔ اس لیے قبول حق کے لیے یہ دعوت دی گئی ہے جو کہ زجر و تنبیہ کے انداز میں ہے۔ اور یہ بھی ربِّ رحمن و رحیم کی رحمت و عنایت کا ایک انداز و اسلوب ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تاکہ اس طرح لوگ دائمی خسارے اور ہولناک انجام سے بچ جائیں ۔ وباللہ التوفیق - 95 یوم حساب میں ظالموں کی بےبسی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس دن نہ تمہارے لیے کوئی پناہ گاہ ممکن ہوگی اور نہ ہی تمہارے لیے انکار کی کوئی گنجائش۔ کیونکہ جو کچھ بھی اس نے کیا ہوگا اس کا کامل ریکارڈ قطعی شہادتوں کے ساتھ اس کے سامنے موجود ہوگا۔ یا " نکیر " یہاں پر " منکر " کے معنیٰ میں ہے۔ یعنی کوئی ایسا نہ ہوگا جو تمہاری سزا کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر کوئی اعتراض و انکار کرسکے کہ ان کو سزا نہ دی جائے یا کم دی جائے وغیرہ۔ سو ایسے کسی امکان کی وہاں کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ تمہارا سب کیا کرایا تمہارے سامنے ہوگا۔ اور تم لوگوں کو بےچون و چرا اس کے آگے سرتسلیم خم کرنا پڑے گا۔ سو اس اٹل دن کے آنے سے پہلے اپنے رب کی دعوت کو قبول کرلو۔ ورنہ یاد رکھو کہ جب تمہارے رب کی جانب سے وہ دن آجائے گا جو اٹل ہے تو پھر تمہارے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ اس موقع پر تمہارا ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہوں گے۔ اس دن نہ تمہارے لیے کوئی پناہ ممکن ہوگی اور نہ ہی تم کسی چیز کو رد کرسکو گے۔ بلکہ جو کچھ تمہارے سامنے آئے گا تمہیں بےچون و چرا اس کے آگے سرتسلیم خم کردینا پڑے گا۔ پس اس دن کی سختیوں سے بچنے کی فکر آج کرلو کہ یہی اس کا موقع ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Top