Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 47
اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ
اِسْتَجِيْبُوْا : مان لو۔ قبول کرلو لِرَبِّكُمْ : اپنے رب کے لیے (اپنے رب کی بات کو) مِّنْ : سے قَبْلِ : اس (سے) پہلے اَنْ يَّاْتِيَ : کہ آجائے يَوْمٌ : ایک دن لَّا مَرَدَّ لَهٗ : نہیں پھرنا اس کے لیے۔ ٹلنا اس کے لیے مِنَ اللّٰهِ : اللہ کی طرف سے مَا لَكُمْ : نہیں تمہارے لیے مِّنْ مَّلْجَاٍ : کوئی جائے پناہ يَّوْمَئِذٍ : اس دن وَّمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ نَّكِيْرٍ : کوئی انکار کرنا
(لوگو ! ) اپنے پروردگار کا حکم مانو قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں (موت کا دن) اس دن نہ تمہارے لیے کوئی پناہ گاہ ہوگی اور نہ تمہاری طرف سے کوئی روک ٹوک کرنے والا ہو گا
اصلاح چاہتے ہو تو قیامت سے پہلے پہلے اصلاح کرلو تمہارا فائدہ اسی میں ہے 47 ؎ مثل ہے کہ صبح کا روٹھا اگر شام کو واپس آجائے تو اس کے روٹھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ دنیا کی زندگی کی کوتاہیوں کا ازالہ اس دنیوی زندگی ہی میں ممکن ہے اگر کوئی شخص اپنی کوتاہی کو کوتاہی تسلیم کرلے اور اس کوتاہی سے باز آجائے تو یہی اس کی کوتاہی کا ازالہ ہے اور اسلام کی زبان میں اس کو ” توبہ “ کا نام دیا گیا ہے اس لیے جو شخص سچے دل سے توبہ کر کے اپنے کیے پر ربر پھیر دے اللہ تعالیٰ یقینا اس سے درگزر فرماتا ہے اور دنیوی زندگی گزرتے گزرتے اسی بھول کے اندر گزر جائے اور توبہ وانابت کی طرف انسان رجوع نہ کرے تو موت آجانے کے بعد جب وہ عذاب سے دوچار ہونے لگے تو چیخنا شروع کر دے اور توبہ و استغفار کرے تو یہ توبہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے چیخنے اور چلانے کا اس کو کوئی فائدہ ہوگا بلکہ اب اس کے لیے عذاب ہے جو نہ ٹل سکتا ہے اور نہ ہی ٹالا جاسکتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ ” اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت “ اس عذاب کا اجر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا جس کو روکنے کی کسی کو جرأت نہیں ہوگی اور نہ ہی خود اللہ تعالیٰ اس کو روکے گا اور نہ ہی کوئی شخص اپنے کرتوتوں میں سے کسی کا انکار کرسکے گا ، نہ کسی دوسرے کے ذمہ ڈال سکے گا اور نہ ہی کوئی اس کا احتجاج کرسکے گا اور نہ ہی وہ کہیں بھاگ کر جاسکے گا اور چار و ناچار اپنے اعمال کا نتیجہ خود ہی بھگتنا ہوگا اللہ تعالیٰ کے ہاں اندھیرنگری اور کالا قانون نہیں چلتا ، پھانسی اسی کے گلے میں پڑے گی جس کے گلے کے لیے وہ تیار کی گئی۔
Top