Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 50
اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ
اَوْ يُزَوِّجُهُمْ : یا ملا جلا کردیتا ہے ان کو ذُكْرَانًا : لڑکے وَّاِنَاثًا : اور لڑکیوں (کی شکل میں) وَيَجْعَلُ : ور بنا دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے عَقِيْمًا : بانجھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ : علم والا ہے، قدرت والا ہے
یا ان کو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں سے نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے بلاشبہ وہ سب کچھ جانتا پوری قدرت والا ہے1
100 اولاد دینا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی جس کو چاہے بچے دے یا بچیاں یا دونوں۔ اور جسکو چاہے بانجھ کر دے " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یعنی یہ سب احوال صرف اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پس انسان دست سوال اسی کے آگے دراز کرے۔ اور جو مانگنا ہو اسی سے مانگے۔ اس کے سوا نہ کوئی بچے بچیاں دے سکتا ہے اور نہ کسی سے بچے بچیاں مانگنا جائز ہے۔ اسباب کے درجے میں دوسروں سے کچھ مانگنا اور لینا دینا تو اگرچہ منع نہیں، کہ یہ دنیا ہے ہی دار الاسباب۔ مگر مافوق الاسباب طور پر کسی بھی مخلوق سے مانگنا جائز نہیں۔ کہ یہ حضرت خالق کی صفت ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ اس طرح کے صاف وصریح اور قطعی ارشادات و نصوص کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک قبروں اور مردوں سے اولادیں اور اپنی دوسری حاجتیں مانگتا، ان کے آگے ہاتھ پھیلاتا اور طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور وہ " پیراں دتہ "، " رسول بخش "، " نبی بخش "، " حضور بخش "، " علی بخش " اور " علی داد " جیسے شرکیہ نام بھی رکھتا ہے اور پیٹ کے پجاری جاہل ملاں اور پیر اپنا کاروبار چلانے اور اپنے پیٹ کو بھرنے کے لئے ایسے جاہل عوام کی پیٹھ ٹھونکتے اور ان کو اس طرح کی شرکیات پر مزید پختہ کرتے جاتے ہیں۔ اور کسی کو خوف خدا نہیں آتا کہ ہم یہ کیا کر رہے ہیں۔ اور کل حشر میں اللہ پاک کے حضور کیا جواب دیں گے ۔ فالی اللہ المشتکیٰ ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 101 اللہ جو کرتا ہے درست کرتا ہے : کہ اس کا علم بھی کامل ہے اور قدرت بھی کامل۔ اور یہ شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ سب کچھ جانتا بڑا ہی قدرت والا ہے "۔ پس وہ پوری طرح جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے اور کس کو کیا بخشا جائے۔ اور وہ جو بھی کچھ کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ کوئی چیز اس کے ارادے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی کہ اس کی قدرت کامل ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ لہذا مومن صادق کا کام اور اس کی شان یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر بھروسہ و اعتماد رکھے۔ اور جو بھی کچھ مانگنا ہو اسی سے مانگے۔ اور ہر حال میں مانگے۔ وہی وحدہ لاشریک ہے جو مانگنے سے خوش ہوتا ہے اور نہ مانگنے سے ناراض۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَایَّاکَ نَسْألُ اللّٰہُمَّ اَنْ تُثَبِّتَنَا عَلَی صِرَاطِکَ الْمُسْتقیم وأنْ تَاْخُذَنَا بَنواصِیْنا اِلْیٰ ما فِیْہِ حُبُّکَ ورضاک۔ پس وہ جو بھی کچھ کرتا ہے اپنے کمال علم اور اپنی کمال قدرت کے مطابق کرتا ہے۔ اس کے کسی بھی کام میں دوسرے کسی بھی شخص یا کسی بھی ہستی کے کسی عمل دخل کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پس بندوں کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے تمام امور و معاملات میں اسی وحدہ لاشریک پر بھروسہ و اعتماد کریں۔ نہ کبھی مغرور ہوں نہ مایوس۔ اور نہ کبھی اس کے سوا کسی اور سے لو لگائیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Top