Madarik-ut-Tanzil - Aal-i-Imraan : 41
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔
آنے والے کو آیا سمجھو : 1: اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (آپہنچا اللہ کا حکم سو تم اس میں جلدی نہ کرو وہ پاک ہے اور اس سے برتر ہے جو وہ شریک تجویز کرتے ہیں ‘ وہ اپنے بندوں میں سے) قیامت کے قائم ہونے کا جو وعدہ کفار سے کیا گیا وہ اس کو جلد مانگتے تھے۔ اسی طرح نزول عذاب کے سلسلہ میں استہزاء و تکذیب کے طور پر جلدی کے طالب تھے۔ بدر کے دن وہ عذاب اترا۔ اس پر ان کو کہا گیا۔ اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا) یعنی وہ اسی طرح سمجھو کہ آکر واقع ہونے والا ہے (اگرچہ اس کا انتظار ہے) کیونکہ اس کا وقوع قریب ہے۔ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ ط سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (پس اس کے جلد آنے کی تمنا نہ کر۔ وہ سبحان اور بلند وبالا ہے ان شریکوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں) اللہ جل مجدہ شریکوں سے پاک ہے اور ان کے شریک بنانے سے مبرا ہے۔ نمبر 1۔ ماؔ موصولہ ہے۔ نمبر 2۔ ما مصدریہ ہے۔ استعجال کے ساتھ اس کا اتصال اس طرح ہے کہ وہ استہزاء و تکذیب سے عذاب کو جلد طلب کرتے تھے یہ شرک ہے۔
Top