Asrar-ut-Tanzil - Al-Ankaboot : 38
وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ
وَمَآ : اور نہیں اَنْزَلْنَا : اتاری ہم نے عَلَيْكَ : تم پر الْكِتٰبَ : کتاب اِلَّا : مگر لِتُبَيِّنَ : اس لیے کہ تم واضح کردو لَهُمُ : ان کے لیے الَّذِي : جو۔ جس اخْتَلَفُوْا : انہوں نے اختلاف کیا فِيْهِ : اس میں وَهُدًى : اور ہدایت وَّرَحْمَةً : اور رحمت لِّقَوْمٍ : ان لوگوں کے لیے يُّؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان لاتے ہیں
اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لئے کہ جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ کردو اور (یہ) مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔
قرآن کو رحمت بنا کر ہم نے اتارا : 64: وَمَآ اَنْزَلَنْاَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ (اور ہم نے یہ کتاب آپ پر اس لئے اتاری ہے) الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے۔ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ (اسلئے کہ آپ انکے سامنے ظاہر کردیں) ھمؔ سے لوگ مراد ہیں۔ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ (جن امور پر لوگ اختلاف کر رہے ہیں) وہ اختلاف دوبارہ اٹھنے پر ہے۔ کیونکہ ان میں کچھ لوگ وہ تھے جو اس پر یعنی دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاتے تھے۔ وَھُدًی وَّرَحْمَۃً (اور ہدایت و رحمت ہے) ۔ نحو : یہ دونوں لِتُبَیِّنَ کے محل پر معطوف ہیں مگر ان دونوں کا نصب مفعولیت کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ دونوں اس ذات کے فعل ہیں جس نے کتاب کو نازل کیا اور تبین کا لام اسلئے لایا گیا کیونکہ یہ مخاطب کا فعل ہے۔ منزل کا فعل نہیں۔ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ایمان والوں کیلئے) ۔
Top