Madarik-ut-Tanzil - Al-Hashr : 20
لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ
لَا يَسْتَوِيْٓ : برابر نہیں اَصْحٰبُ النَّارِ : دوزخ والے وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ : اور جنت والے اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ : جنت والے هُمُ : وہی ہیں الْفَآئِزُوْنَ : مراد کو پہنچنے والے
اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔
اہل جنت و دوزخ برابر نہیں : 20 : لَایَسْتَوِیْ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمُ الْفَآ ئِزُوْنَ (دوزخی اور جنتی باہم برابر نہیں۔ اہل جنت ہی کامیاب ہیں) اس میں لوگوں کو خبردار کیا اور یہ اعلان کرد یا گیا کہ لوگو ! تم کثرت ِغفلت اور آخرت کی فکر بہت کم کرنے اور دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں ترجیح دے کر اور شہوات کی پیروی کر کے اس درجہ میں پہنچ چکے۔ گویا کہ جنت و دوزخ کے فرق کو ہی تم نہیں جانتے اور ان کے رہنے والوں کے درمیان تو دور کا فاصلہ پایا جاتا ہے۔ وہ تمہارے پیش نظررہا ہی نہیں۔ حالانکہ بڑی کامرانی تو اصحاب جنت کو حاصل ہوگی اور اصحاب نار کو دردناک عذاب میں مبتلا ہونا ہوگا۔ پس لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس بات کو جانیں اور اس سے خبردار ہوں۔ جیسا تم اس شخص کو کہو جو اپنے باپ کی نافرمانی کرتا ہو۔ ھوابوک کہ وہ تیرا باپ ہے تم نے یہ جملہ اس کو اس انداز سے کہا ہے گویا وہ اپنے باپ کو جانتا ہی نہیں پس یہ جملہ کہہ کر تم اس کو حق بات یاد دلا رہے ہو جو کہ مہربانی اور صلہ رحمہ کا مقتضی ہے۔ استدلالِ شوافع : اس آیت سے انہوں نے استدلال کیا کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے گا۔ اور کافر استیلاء سے مسلمانوں کے مال کے مالک نہیں بنتے۔ ان استدلالات کے جوابات اصول فقہ کی کتب میں عموماً اور خصوصاً ہماری کتاب الکافی میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
Top