Al-Quran-al-Kareem - Al-Hashr : 20
لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ
لَا يَسْتَوِيْٓ : برابر نہیں اَصْحٰبُ النَّارِ : دوزخ والے وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ : اور جنت والے اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ : جنت والے هُمُ : وہی ہیں الْفَآئِزُوْنَ : مراد کو پہنچنے والے
آگ والے اور جنت والے برابر نہیں ہیں، جو جنت والے ہیں، وہی اصل کامیاب ہیں۔
لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۔۔۔: یہ اوپر کی آیات کا خلاصہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے اور آخرت کی تیاری کرنے والے جنتی ہیں اور اسے بھولنے والے اور گناہ اور نافرمانی کی زندگی بسر کرنے والے جہنمی ہیں اور جہنمی اور جنتی دونوں برابر نہیں ہیں۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ص (28) ، سجدہ (18) اور سورة ٔ جاثیہ (21) کی تفسیر۔”اصحب النار“ سے مراد کفار ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَـآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ)”اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ آگ والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں“۔ اور ”اصحب الجنۃ“ سے مراد مومن ہیں۔ (دیکھئے احقاف : 13، 14)”اصحب النار“ اور ”اصحب الجتۃ“ دونوں کا ایک ہی جگہ ذکر دیکھنے کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (81، 82)۔
Top