Madarik-ut-Tanzil - Al-Mulk : 14
اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠   ۧ
اَلَا يَعْلَمُ : کیا نہیں جانے گا مَنْ خَلَقَ : وہ جس نے پیدا کیا وَهُوَ اللَّطِيْفُ : اور وہ باریک بین ہے الْخَبِيْرُ : باخبر ہے
بھلا جس نے پیدا کیا وہ بیخبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے آٰگاہ ہے
14 : اَ لَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے اور وہ باریک بین پورا باخبر ہے) نحو : مَن یہ یعلم کا فاعل ہونے کی وجہ سے موضع رفع میں ہے۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ کیا وہ جس نے مخلوق کو پیدا کیا اور اس کی صفت لطیف وخبیر بھی ہے وہ ان کے ضمیر اور راز ہائے سینہ اور ظاہر سے واقف نہ ہوگا ؟ اللطیف اس کی صفت یہ ہے کہ وہ اشیاء کے دقائق سے واقف ہے۔ الخبیر ؔ اور اشیاء کے حقائق سے بھی آگاہ ہے۔ فائدہ : اس سے ثابت ہوا کہ اللہ اقوال کا خالق ہے پس افعال کا خالق ہونا خود ثابت ہوگیا۔ قولِ ابوبکر اصم وجعفر بن حرب : کہ مَنْؔ مفعول ہے اور فاعل مضمر ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہیں۔ اس حیلہ بازی سے انہوں نے خلق افعال کی نفی کرنا چاہی (مگر بےحاصل) ۔
Top