Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 14
اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠   ۧ
اَلَا يَعْلَمُ : کیا نہیں جانے گا مَنْ خَلَقَ : وہ جس نے پیدا کیا وَهُوَ اللَّطِيْفُ : اور وہ باریک بین ہے الْخَبِيْرُ : باخبر ہے
کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ 21 حالانکہ وہ باریک بیں 22 اور باخبر ہے
سورة الْمُلْک 21 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کیا وہ اپنی مخلوق ہی کو نہ جانے گا " ؟ اصل میں من خلق استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی " جس نے پیدا کیا ہے " بھی ہو سکتے ہیں، اور " جس کو اس نے پیدا کیا ہے " بھی۔ دونوں صورتوں میں مطلب ایک ہی رہتا ہے۔ یہ دلیل اس بات کی جو اوپر کے فقرے میں ارشاد ہوئی ہے۔ یعنی آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے بیخبر ہو ؟ مخلوق خود اپنے آپ سے بیخبر ہو سکتی ہے، مگر خالق اس سے بیخبر نہیں ہو سکتا۔ تمہاری رگ رگ اس نے بنائی ہے۔ تمہارے دل و دماغ کا ایک ایک ریشہ اس کا بنایا ہوا ہے۔ تمہارا ہر سانس اس کے جاری رکھنے سے جاری ہے۔ تمہارا ہر عضو اس کی تدبیر سے کام کر رہا ہے۔ اس سے تمہاری کوئی بات کیسے چھپی رہ سکتی ہے ؟ سورة الْمُلْک 22 اصل میں لفظ " لطیف " استعمال ہوا ہے جس کے معنی غیر محسوس طریقے سے کام کرنے والے کے بھی ہیں اور پوشیدہ حقائق کو جاننے والے کے بھی۔
Top