Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 14
اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠   ۧ
اَلَا يَعْلَمُ : کیا نہیں جانے گا مَنْ خَلَقَ : وہ جس نے پیدا کیا وَهُوَ اللَّطِيْفُ : اور وہ باریک بین ہے الْخَبِيْرُ : باخبر ہے
بھلا جس نے پیدا کیا ، کیا وہ نہ جانے گا اور وہ تو بڑا ہی باریک بیں بڑا ہی باخبر ہے
بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ نہیں جانے گا وہ تو بڑاہی باریک بیں ہے 14 ؎ زیر نظر آیت بھی گزشتہ آیت کی وضاحت کر رہی ہے اور کفار کی غلط فہمیوں کا ازالہ کر رہی ہے اور مخالفین و معاندین سے استفساراً پوچھا جا رہا ہے کہ بھلا یہ تو بتائو کہ وہ ذات بھی نہیں جانتی جس نے خود انسان کی تخلیق کی ہے اور اس کے اندر جو کچھ ودیعت کیا گیا ہے وہ اس سے خوب واقف ہے۔ اس سے زیادہ اور کون واقف حال ہو سکتا ہے۔ کائنات کی ہرچیز کا جب وہ خالق ہے اور ہرچیز میں حسب حالات مختلف صلاحیتیں اور خاصیتیں اور اثرات اسی نے تو ودیعت کئے ہیں تو پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ اسے اس بات کی خبر نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور اس کی دی ہوئی قوتوں سے وہ کس طرح کام لے رہا ہے یہ تو نہایت تعجب کی بات ہے اور عقل سلیم اس کو کبھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ ایک ذات جو خالق ہے اور مخلوق کو اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ وہ خالق ہے اور پھر اس کے تصور میں یہ بات نہ آئے (اللطیف) اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور یہ صیغہ صفت مشبہ حالت رفع ہے۔ جس کے معنی ہیں نہایت باریک بیں ، دقیقہ رس اور دقیقہ کا جاننے والا۔ رقت نظر اور حسن تدبیر سے کام کرنے والا۔ بندوں پر مہربان ، نیکیوں کی توفیق دینے والا ، کسی جسم کے لطیف ہونے کا معنی ہے نازک ہونا ، باریک ہونا اور اللہ تعالیٰ کی یہ صفت جس سے یہ بات سمجھانا مطلوب ہے کہ وہ واقف اسرار ہے اور پوشیدہ سے پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے اور نہایت مہربان اور بھلائی کرنے والا ہے۔
Top