Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 97
اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ
اِنِّىْ : بیشک میں جَزَيْتُهُمُ : میں نے جزا دی انہیں الْيَوْمَ : آج بِمَا : اس کے بدلے صَبَرُوْٓا : انہوں نے صبر کیا اَنَّهُمْ : بیشک وہ هُمُ : وہی الْفَآئِزُوْنَ : مراد کو پہنچنے والے
میں نے آج ان کو ان کے صبر کا بدلہ یہ دیا کہ وہی (پوری طرح) کامیاب نکلے،96۔
96۔ (اور تم اپنی روشن خیالی پر گھمنڈ رکھنے والے اس ناکامی کے عذاب میں گرفتار نکلے۔ ان غریبوں کا کیا بگڑا جو تمہارے تختہ مشق تھے۔ چند روزہ کلفت کو صبر کے ساتھ برداشت کرلے گئے۔ مصیبت تو تمہارے ہی حصہ میں آئی) ” مطلب جواب کا یہ ہوا کہ تمہارا قصور اس قابل نہیں کہ سزا کے وقت اقرار کرنے سے معاف کردیاجائے۔ کیونکہ تم نے ایسا معاملہ کیا جس سے ہمارے حقوق کا بھی اتلاف ہوا اور حقوق العباد کا بھی۔ اور عباد بھی کیسے، ہمارے مقبول ومحبوب، جو ہم سے خصوصیت خاصہ رکھتے تھے۔ کیونکہ ان کو سخر یہ بنانے میں ان کی ایذاء کہ اضاعۃ حق العبد ہے اور تکذیب حق جو منشا سخریہ کا ہے کہ اضاعۃ حق اللہ ہے دونوں لازم آئے، بس اس کی سزا کے لیے دوام اور اتمام مناسب ہے۔ اور مومنین کو جزائے فوز دینا منجملہ تمام سزا ہے کفار کے لیے۔ کیونکہ اعداء کی کامیابی سے روحانی تاذی ہوتی ہے “۔ (تھانوی (رح)
Top