Tafseer-e-Majidi - Al-Ahzaab : 59
فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ
فَلَمَّا : پھر جب جَآءَهُمْ : آیا ان کے پاس مُّوْسٰي : موسیٰ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کے ساتھ بَيِّنٰتٍ : کھلی۔ واضح قَالُوْا : وہ بولے مَا هٰذَآ : نہیں ہے یہ اِلَّا : مگر سِحْرٌ : ایک جادو مُّفْتَرًى : افترا کیا ہوا وَّ : اور مَا سَمِعْنَا : نہیں سنا ہے ہم نے بِهٰذَا : یہ۔ ایسی بات فِيْٓ : میں اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِيْنَ : اپنے اگلے باپ دادا
پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس ہمارے کھلے ہوئے نشان لے کر آئے،48۔ تو وہ بولے کہ یہ تو ایک بس گڑھا ہوا جادو ہے اور ہم نے ایسی بات اپنے اگلوں باپ دادوں کے وقت تو سنی نہیں،49۔
48۔ معجزات و دلائل وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔ (آیت) ” نجعل لکما سلطنا “۔ یہ یاد کرلیجئے کہ موسیٰ وہارون (علیہما السلام) دونوں محکوم قوم اور رعایا کے فرد تھے اور ان کا مقابلہ ایسے بادشاہ خود مختار سے ہورہا تھا جس کی زبان خود ہی قانون تھی۔ اور جو ملک میں مطاع مطلق ہی کی حیثیت نہیں رکھتا تھا بلکہ ملک کی اکثریت کے عقیدہ میں معبود والہ (سب سے بڑے دیوتا کا اوتار) بھی تھا ! اس استحضار حقیقت کے بعد اس رعب نبوت کی پوری قدر ہوگی، فرعون تو فرعون، اس کے درباری اور ارکان حکومت تک موسیٰ اسرائیلی وہارون اسرائیلی کی حقیقت کیا سمجھتے تھے اور اپنے کو ان کے پیس ڈالنے کے لیے کافی سمجھ رہے تھے۔ (آیت) ” فلایصلون الیکما “۔ اسی رعب خداداد کا یہ نتیجہ تھا کہ بڑے بڑے ہیکڑوں میں سے کوئی آپ دونوں پر دسترس نہ پاسکا۔ (آیت) ” بایتنا “ تقدیر کلام یوں ہے۔ (آیت) ” اذھبا بایتنا “۔ 49۔ مصری قوم شرک درشرک میں مبتلا، عقیدۂ توحید ونبوت سے سرے سے ناآشنا تھی، پیام موسوی سن کر اور دلائل سے واقف ہو کر اور معجزات کے مشاہدہ ہونے کے بعد بولی کہ یہ تو محض ایک ساحرانہ کاروائی ہے اور اسے دل سے گڑھ کر خدا کی جانب منسوب کیا جارہا ہے۔
Top