Tafseer-e-Madani - Al-Qasas : 36
فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ
فَلَمَّا : پھر جب جَآءَهُمْ : آیا ان کے پاس مُّوْسٰي : موسیٰ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کے ساتھ بَيِّنٰتٍ : کھلی۔ واضح قَالُوْا : وہ بولے مَا هٰذَآ : نہیں ہے یہ اِلَّا : مگر سِحْرٌ : ایک جادو مُّفْتَرًى : افترا کیا ہوا وَّ : اور مَا سَمِعْنَا : نہیں سنا ہے ہم نے بِهٰذَا : یہ۔ ایسی بات فِيْٓ : میں اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِيْنَ : اپنے اگلے باپ دادا
پھر جب پہنچ گئے موسیٰ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو محض ایک جادو ہے گھڑا گھڑایا اور یہ کچھ تو ہم نے اپنے اگلے باپ دادوں کے وقت میں بھی کبھی نہیں سنا
47 فرعونیوں کے کفر و انکار کا ذکر : سو اس فرعونیوں کی طرف سے کفر وانکار اور معجزات موسیٰ کو جادو قرار دینے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرعونیوں کی طرف سے جواب ملا کہ یہ تو ایک جادو ہے گھڑا گھڑایا۔ جو یہ خود سیکھ اور بنا کر اور گھڑ کر لائے ہیں کہ ایسے ایسے کرتب دکھائیں اور شعبدہ بازیاں پیش کریں۔ البتہ ان میں تاثیر ضرور جادو کی سی ہے۔ سو حضرت موسیٰ جب حق و ہدایت سے متعلق کھلی اور روشن آیتیں لیکر ان لوگوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس کو قبول کرنے اور حق کی طرف رجوع کرنے کی بجائے الٹا ان کو ایک من گھڑت جادو قرار دیا اور کہا کہ اس جادو کے بارے میں رعب جمانے کیلئے یہ کہتے ہیں کہ یہ معجزات ہیں جو انہیں خدا کی طرف سے دیئے گئے ہیں اور جس توحید کی دعوت یہ لوگوں کو دے رہے ہیں وہ تو ہم نے اپنے پہلے باپ دادوں میں کبھی نہیں سنی۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت موسیٰ ان روشن دلائل اور ناقابل تردید نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس پہنچے تو ان بدبختوں نے آنجناب کے معجزات کو تو جادو کا کرشمہ قرار دیا اور آپ کی دعوت توحید کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ ہمارے آباء و اَجداد کی روایات کے خلاف ہے۔ اس لیے ہم ان کو کسی قیمت پر ماننے کے لیے تیار نہیں ۔ والعیاذ باللہ - 48 حضرت موسیٰ کی دعوت حق کو اچنبھا قرار دینا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ کی دعوت حق و ہدایت کے بارے میں ان لوگوں نے کہا کہ یہ کچھ تو ہم نے اپنے اگلے باپ داداوں میں کبھی نہیں سنا کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک بلاشرکت غیرے تنہا ایک ہی خدا ہے۔ اور یہ کہ ہم نے مرنے کے بعد پھر زندہ ہو کر اٹھنا ہے اور اپنے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے۔ اور یہ کہ اس کے کوئی پیغمبر بھی ہوتے ہیں جن کو وہ مبعوث کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہی تینوں بنیادی مسائل پہلے بھی لوگوں کو سمجھنے مشکل تھے اور یہی آج بھی سمجھنے مشکل ہیں۔ یعنی توحید رسالت اور آخرت جو کہ بنیادی عقائد ہیں اور جن کو اصول ثلاثہ کہا جاتا ہے۔ بہرکیف انہوں نے کہا کہ یہ باتیں ہم نے اپنے پہلے باپ دادوں میں کبھی نہیں سنیں۔ یہ ان کا بالکل اپنا گھڑا گھڑایا جھوٹ ہے۔ (المراغی، المدارک، المعارف اور الخازن وغیرہ) ۔ سو ان لوگوں نے دعوت حق کو اچنبھا قرار دیتے ہوئے اس کا انکار کردیا اور کہا کہ یہ اور اس طرح انسان نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر ہلاکت و تباہی کے دائمی گڑھے میں جا گرتا ہے۔ اس لیے ہم ان کی اس دعوت کو ماننے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ایسے بدبختوں کا یہ قول اس طرح نقل فرمایا گیا ہے ۔ { مَا سَمِعْنَا لِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الآخِرَۃِ اِنْ ہٰذَا الاَّ اخْتِلَاق } (ص :7) ۔ سو یہ نتیجہ ہوتا ہے تکبر و سرکشی اور عناد و ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوئٍ وانحرافٍ-
Top