Tafseer-e-Usmani - An-Nisaa : 131
وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ
وَقَالُوْٓا : اور وہ کہتے ہیں اِنْ نَّتَّبِعِ : اگر ہم پیروی کریں الْهُدٰى : ہدایت مَعَكَ : تمہارے ساتھ نُتَخَطَّفْ : ہم اچک لیے جائیں گے مِنْ اَرْضِنَا : اپنی سرزمین سے اَوَ : کیا لَمْ نُمَكِّنْ : نہیں دیا ٹھکانہ ہم نے لَّهُمْ : انہیں حَرَمًا اٰمِنًا : حرمت والا مقام امن يُّجْبٰٓى : کھنچے چلے آتے ہیں اِلَيْهِ : اس کی طرف ثَمَرٰتُ : پھل كُلِّ شَيْءٍ : ہر شے (قسم) رِّزْقًا : بطور رزق مِّنْ لَّدُنَّا : ہماری طرف سے وَلٰكِنَّ : اور لیکن اَكْثَرَهُمْ : ان میں اکثر لَا يَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے
زکوٰۃ جو ہے وہ حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور زکوٰۃ کے کام پر جانے والوں کا اور جن کا دل پر چانا منظور ہے اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جو تاوان بھریں اور اللہ کے راستہ میں اور راہ کے مسافر کو ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے1
1 چونکہ تقسیم صدقات کے معاملہ میں پیغمبر پر طعن کیا گیا تھا، اس لیے متنبہ فرماتے ہیں کہ صدقات کی تقسیم کا طریقہ خدا کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اس نے صدقات وغیرہ کے مصارف معتین فرما کر فہرست نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ آپ ﷺ اسی کے موافق تقسیم کرتے ہیں اور کریں گے کسی کی خواہش کے تابع نہیں ہوسکتے۔ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ " خدا نے صدقات (زکوٰۃ) کی تقسیم کو نبی یا غیر نبی کسی کی مرضی پر نہیں چھوڑا۔ بلکہ بذات خود اس کے مصارف متعین کردیے ہیں۔ جو آٹھ ہیں۔ " فقراء " (جن کے پاس کچھ نہ ہو) " مساکین " (جن کو بقدر حاجت میسر نہ ہو) " عاملین " (جو اسلامی حکومت کی طرف سے تحصیل صدقات وغیرہ کے کاموں پر مامور ہوں) " مؤلفۃ القلوب " (جن کے اسلام لانے کی امید ہو یا اسلام میں کمزور ہوں وغیر ذلک من الانواع، اکثر علماء کے نزدیک حضور کی وفات کے بعد یہ مد نہیں رہی) " رقاب " (یعنی غلاموں کا بدل کتابت ادا کر کے آزادی دلائی جائے۔ یا خرید کر آزاد کیے جائیں۔ یا اسیروں کا فدیہ دے کر رہا کرائے جائیں) " غارمین " (جن پر کوئی حادثہ پڑا اور مقروض ہوگئے یا کسی کی ضمانت وغیرہ کے بارے میں دب گئے) " سبیل اللہ " (جہاد وغیرہ میں جانے والوں کی اعانت کی جائے) " ابن السبیل " (مسافر جو حالت سفر میں مالک نصاب نہ ہو، گو مکان پر دولت رکھتا ہو) " حنفیہ " کے یہاں تملیک ہر صورت میں ضروری ہے اور فقر شرط ہے۔ تفصیل فقہ میں ملاحظہ کی جائے۔
Top