Anwar-ul-Bayan - Hud : 42
وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ
وَقَالَتِ : اور کہا امْرَاَتُ : بیوی فِرْعَوْنَ : فرعون قُرَّةُ : ٹھنڈک عَيْنٍ لِّيْ : میری آنکھوں کے لیے وَلَكَ : اور تیرے لیے لَا تَقْتُلُوْهُ : تو قتل نہ کر اسے عَسٰٓى : شاید اَنْ يَّنْفَعَنَآ : کہ نفع پہنچائے ہمیں اَوْ نَتَّخِذَهٗ : یا ہم بنالیں اسے وَلَدًا : بیٹا وَّهُمْ : اور وہ لَا يَشْعُرُوْنَ : (حقیقت حال) نہیں جانتے تھے
اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا۔ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اُسے بیٹا بنالیں اور وہ انجام سے بےخبر تھے
وقالت امرات فرعون . اور فرعون کی بی بی نے (فرعون سے) کہا۔ وہب بن منب نے بیان کیا کہ جب فرعون کے سامنے صندوقچہ رکھا گیا اور لوگوں نے اس کو کھولا اور اس کے اندر سے موسیٰ برآمد ہوئے تو فرعون نے ان کو دیکھ کر کہا : یہ تو عبرانی ہے ‘ دشمنوں میں سے ہے۔ موسیٰ کو دیکھ کر اس کو غصہ آیا اور کہنے لگا : یہ لڑکا کیسے بچ گیا ؟ فرعون نے ایک اسرائیلی عورت سے نکاح کرلیا تھا جس کو آسیہ بنت مزاحم کہا جاتا تھا۔ یہ عورت بہت نیک تھی اور انبیاء کی نسل سے تھی۔ مسکینوں کے لئے تو ماں تھی ‘ ان پر بڑا ترس کھاتی تھی ‘ بہت خیرات دیتی تھی۔ جب آسیہ فرعون کے پاس بیٹھی ہوئی تھی تو اس نے فرعون سے کہا : یہ لڑکا تو ایک سال سے زائد کا ہے اور آپ کا حکم اس سال کے لڑکوں کو قتل کرنے کا ہے اس لئے اس کو چھوڑ دیجئے۔ قرت عین لی ولک . میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا۔ لا تقتلوہ . اس کو قتل نہ کیجئے۔ جمع مخاطب کا صیغہ تعظیم کے طور پر بولا۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ آسیہ نے کہا : یہ کسی اور ملک کا ہے ‘ بنی اسرائیل کا نہیں ہے۔ عسی ان ینفعنا . امید ہے کہ یہ ہمارے کام آئے گا۔ یہ قتل نہ کرنے کی درخواست کی علت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر برکت کے نشانات ہیں ‘ ہم کو اس سے فائدہ پہنچنے کی علامتیں موجود ہیں۔ آسیہ نے یہ بات اس لئے کہی کہ ان کو موسیٰ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور چمکتا نظر آگیا تھا۔ انگوٹھوں سے دودھ چوستے بھی انہوں نے دیکھ لیا تھا اور فرعون کی لڑکی بھی ان کے منہ کا لعاب لگانے سے اچھی ہوگئی تھی۔ او نتخذہ ولدًا . یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں گے کیونکہ یہ بیٹا ہونے کے قابل ہے۔ وھم لا یشعرون . اور ان کو احساس نہ تھا کہ فرعون اور اس کے آدمیوں کی تباہی اور موت اس کے ہاتھوں سے ہو گی۔ فرعون یہ بات سن کر کچھ جھجک گیا ‘ اللہ نے موسیٰ کی محبت اس کے دل میں ڈال دی۔ ابن جریر نے بروایت محمد بن قیس مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ فرعون نے کہا تھا کہ یہ تیری آنکھ کی ٹھنڈک ہوگا ‘ میری آنکھ کی ٹھنڈک نہیں ہے۔ اگر وہ یوں کہہ دیتا کہ جیسے یہ تیری آنکھ کی ٹھنڈک ہوگا ‘ ویسے ہی میری آنکھ کی بھی خنکی ہوگا تو جس طرح اللہ نے آسیہ کو ہدایت یافتہ کردیا تھا اسی طرح فرعون کو بھی ہدایت یافتہ بنا دیتا۔ محمد بن وہب نے کہا : حضرت ابن عباس نے فرمایا : اگر اللہ کا دشمن آسیہ کی طرح موسیٰ کی بابت عَسٰی اَنْ یَّنْفَعَنَا کہہ دیتا تو اللہ اس کو بھی فائدہ پہنچا دیتا لیکن اللہ نے اس کے لئے بدبختی لکھ دی تھی ‘ وہی بدنصیبی غالب آئی اور اس نے انکار کر یا۔
Top