Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 12
لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
لَهٗ : اس کے لیے ہیں مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ : کنجیاں ہیں آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَبْسُطُ : پھیلاتا ہے۔ فراخ کرتا ہے الرِّزْقَ : رزق لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے وَيَقْدِرُ : اور نپا تلا دیتا ہے اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کے ساتھ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز سے واقف ہے
لہ مقالید السموت والارض اسی کیلئے ہیں آسمان کے اور زمین کے خزانے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں رزق کے خزانے۔ کلبی نے کہا : (آسمان میں) بارش اور (زمین میں) سبزہ کے خزانے۔ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر جس کو چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہے کم دیتا ہے (ترجمہ تھانوی) یعنی اپنی مشیت کے موافق رزق کی وسعت بھی وہی کرتا ہے اور تنگی بھی وہی کرتا ہے اور یہ سب کچھ امتحان و آزمائش کیلئے کرتا ہے۔ انہ بکل شیء علیم بلاشبہ وہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔ یعنی جیسا مناسب ہوتا ہے ‘ ویسا کرتا ہے۔
Top