Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 19
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ
اَوَلَمْ يَرَوْا : کیا بھلا انہوں نے دیکھا نہیں اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر صٰٓفّٰتٍ : صف بستہ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹ لیتے ہیں مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو اِلَّا الرَّحْمٰنُ : مگر رحمن اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍۢ : ہر چیز کو بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے ہوئے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیڑ بھی لیتے ہیں۔ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بےشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے
اولم یروا . ہمزہ (1َ ) استفہام کی اور واو (و) عطف کے لیے ہے۔ معطوف علیہ محذوف ہے۔ اصل کلام یوں مانا جائے گا ‘ کیا انہوں نے آسمان و زمین کی تخلیق کا مشاہدہ نہیں کیا اور الی الطیر فوقھم صفت . ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو ان کے اوپر بازو پھیلائے اڑتے ہوتے ہیں۔ فوقھم کا تعلق صافات سے ہے صافات سے الطیر کی حالت بیان کی گئی ہے اور دیکھنے سے مراد ہے آنکھوں سے دیکھنا کیونکہ یروا کے بعد الٰی مذکور ہے۔ صافات کا معنی ہے فضا میں اڑنے کی حالت میں بازو پھیلائے ہونا ‘ پرندے جب پر پھیلائے ہوتے ہیں توشہ پر (اور ان سے اندر والے پر) ترتیب کے ساتھ پھیلے ہوئے ہوتے ہیں و یقبضن۔ صافات پر عطف ہے یعنی اور پرندے پَر سمیٹتے ہیں قابضات کی جگہ یَقْبِضْنَ (اسم کی جگہ فعل) لانے سے مقصود ہے۔ حدوث اور تجدد کا اظہار کیونکہ اڑتے وقت پر پھیلے رہنا اصل ہے اور پردوں کا سمٹاؤ عارضی طور پر اس وقت ہوجاتا ہے جب پرندہ حرکت کرنے کے لیے پروں کو سمیٹنے سے مدد لینا چاہتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ معطوف علیہ (فعل) محذوف ہو یعنی پرندے کبھی پر پھیلاتے ہیں ‘ کبھی سمیٹتے ہیں۔ ما یمسکھن الا الرحمن . اس جملہ میں صافات کے فاعل کی حالت کا بیان ہے یعنی فضا میں پرندوں کو ان کی فطرت کے خلاف صرف رحمن ہی روکے رکھتا ہے۔ انہ بکل شیء بصیر . یعنی عجیب و غریب چیزوں کی تخلیق و تدبیر سے اللہ واقف ہے۔
Top