Mazhar-ul-Quran - Aal-i-Imraan : 20
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
سَبَّحَ : پاکیزگی بیان کرتا ہے لِلّٰهِ : اللہ کی مَا : جو فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَمَا فِي الْاَرْضِ ۚ : اور جو زمین میں وَهُوَ : اور وہ الْعَزِيْزُ : غالب الْحَكِيْمُ : حکمت والا
اللہ کی1 پاکی بیان کرتی ہے ہر چیز جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، وہی غالب حکمت والا ہے۔
منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔ (ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے پردے تھام کر قریش کے سرداروں سے نبی ﷺ کے خلاف معاہدہ کیا، اللہ تعالیٰ کے علم دینے سے حضور اس حال پر مطلع تھے اور بنی نظیر سے ایک خیانت اور بھی واقع ہوچکی تھی کہ انہوں نے قلعہ کے اوپر سے نبی ﷺ پر باارادہ فاسد ایک پتھر گرایا گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خبردار کیا اور بفضلہ تعالیٰ حضور ﷺ محفوظ رہے۔ غرض جب یہودی بنی نضیر نے خیانت کی اور عہد شکنی کی اور کفار قریش سے حضور کے خلاف عہد کیا تو نبی ﷺ نے محمد بن مسلمہ انصاری کو حکم دیا کہ اور انہوں نے کعب بن اشرف کو قتل کردیا، پھر حضور مع لشکر کے بنی نضیر کی طرف روانہ ہوئے اور ان کا محاصرہ کرلیا، یہ محاصرہ اکیس روز رہا اور اس کے درمیان میں منافقین نے یہود سے ہمدردی موافقت کے بہت معاہدے کیے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ناکام کیا، یہود کے دلوں میں رعب ڈالا، آخرکار انہیں حضور کے حکم سے جلاوطن ہونا پڑا اور وہ شام اریحاد خیبر کی طرف چلے گئے۔ اس لیے ان کی اس پہلی جلاوطنی کو پیشین گوئی کے طور پر اول حشر فرمایا اور دوسرا حشر ان کا یہ ہے کہ امیرالمومنین عمرؓ نے انہیں اپنے زمانہ خلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا ، یا آخیر حشرروز قیامت کا حشر ہے کہ آگ سب لوگوں کو سرزمین شام کی طرف لے جائے گی اور وہیں ان پر قیامت قائم ہوگی، حشر کے معنی کسی ایک کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نکال دینا ۔ حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ بنی نضیر کے قلعے کی مضبوطی کے سبب سے نہ اہل اسلام کو یہ گمان تھا کہ ایسامضبوط قلعہ اس طرح جلدی سے خالی ہوجائے گانہ بنی نضیر کو یہ خیال تھا کہ اس طرح وقت پر قلعہ سے ان کو پناہ نہ ملے گی ، مگر اللہ کی حکمت ایسی زبردست ہے کہ اس کی قدرت اور حکمت سے جو کچھ ہوا وہ لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا، اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے دل میں لشکر اہل اسلام کی ایسی ہیبت پیدا کردی کہ وہ لڑائی کی جرات نہ کرسکے، بلکہ جلاوطنی پر راضی ہوگئے جلاوطنی کے وقت یہ امر اقرار پایا کہ تین آدمیوں میں ایک اونٹ بار برداری کو دیاجائے اور ایک مشک پانی پینے کو دی جائے اور اس ایک اونٹ پر جو چیز لادی جاسکے وہ یہ لوگ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں اس واسطے گھروں میں کا، کڑی تختہ اور جو چیز ان کو اچھی معلوم ہوتی تھی ، اس کو وہ اونٹوں پر لادنے کے لیے گھروں کو توڑ پھوڑ کر نکال رہے تھے اور قلعہ کے باہر جو بنی نضیر کا کھجوروں کا باغ تھا اہل اسلام نے اس کے کچھ پیڑ جلادیے تھے اور کچھ کاٹ ڈالے تھے اسی کو قابل عبرت ذلت اور ویرانی فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ جلاوطنی کی ذلت اور ویرانی ان لوگوں کی قسمت میں نہ لکھی ہوتی تو اللہ اور رسول کی مخالفت کے سبب سے ان پر کوئی آفت آتی، پیڑوں کو پہلے تو اہل اسلام نے اس لیے کاٹا اور جلایا کہ اس کی جلن سے بنی نضیر قلعے کے باہر نکل آویں لیکن پھر اہل اسلام کے دل میں خیال گذرا کہ کہیں اس کا کچھ گناہ ہو اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کی یہ تسکین فرمائی کہ جو کچھ ہو اللہ تعالیٰ نے وہ تمہارے دل میں ڈالا ہے کہ تمہارے دشمنوں کی ذلت اس میں تھی۔
Top