Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Al-Qurtubi - At-Tawba : 53
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
سَبَّحَ
: پاکیزگی بیان کرتا ہے
لِلّٰهِ
: اللہ کی
مَا
: جو
فِي السَّمٰوٰتِ
: آسمانوں میں
وَمَا فِي الْاَرْضِ ۚ
: اور جو زمین میں
وَهُوَ
: اور وہ
الْعَزِيْزُ
: غالب
الْحَكِيْمُ
: حکمت والا
جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے
آیات۔
1
۔
2
تفسیر اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر
1
۔ ھو الذی اخرج الذی کفروا من اھل الکتب من دیارھم حضرت سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا ؛ یہ سورة حشر ہے ؟ فرمایا : کہو سورة ٔنضیر یہ ؛ یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھا جب بنو سرائیل مصائب کا شکار ہوئے تو یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے انتظار میں مدینہ طیبہ آکر رہائش پذیر ہوئے۔ انہوں نے یہ اس لئے کیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) پر اس امر کو بیان کیا تھا (
1
) ۔ مسئلہ نمبر
2
۔ لاول الحشر حشر کا معنی جمع ہونا ہے۔ اس کی چار صورتیں ہیں : دو حشر دنیا میں اور دو حشر آخرت میں ہونگے۔ جو دنیا میں ہوگا اس کی طرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم لاول الحشر زہری نے کہا : وہ ایسے خاندان سے تھے انہیں جلا وطنی کی معیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا اللہ تعالیٰ نے ان پر جلا وطنی کو فرض کیا اگر ایسا نہ ہوتا تو انہیں دنیا میں عذاب دیتا (
2
) ۔ اول حشر سے مراد ہے کہ وہ دنیا میں شام کی طرف جمع کئے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عکرمہ نے کہا : جسے اس میں شک ہو کہ کیا محشر شام میں ہے تو وہ اس آیت کو پڑھے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا :” تم یہاں سے نکل جائو “۔ انہوں نے عرض کی : کہاں جائیں ؟ فرمایا :” ارض محشر کی طرف “۔ حضرت قتادہ نے کہا : یہ پہلا حشر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ وہ پہلے اہل کتاب ہیں جنہیں نکالا گیا ہے اور حضور ﷺ کے ملک سے جلا وطن کیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں خیبر کی طرف جلا وطن کیا گیا۔ اور لاول الحشر کا معنی ہے انہیں ان کے قلعوں سے خیبر کی طرف نکالا گیا۔ اور دوسرا حشر حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں کیبر سے نجد اور اذرعات کی طرف جلا وطن کیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تیمار اور اریحاء کی طرف جلا وطن کیا گیا۔ ان کو یہ سزا ان کے کفر اور وعدہ توڑنے کی وجہ سے دی گئی۔ جہاں تک دوسرے حشر کا تعلق ہے : یہ قیامت کے قریب ہوگا۔ حضرت قتادہ ؓ نے کہا : ایک آگ ظاہر ہوگی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک کرلے جائے گی جہاں لوگ رات گزاریں گے وہ بھی وہاں ہی رات گزارے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے وہاں آگ بھی قیلولہ کرے گی اور جو پیچھے رہ جائے گا وہ انہیں کھا جائے گی۔ یہ حدیث صحیح، ثابت ہے ہم نے اسے ” کتاب التذکرہ “ میں ذکر کیا ہے۔ اس کی مثل اب وہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہا : میں نے امام مالک سے عرض کی : اس حشر سے مراد ان کو ان کے گھروں سے جلا وطن کرنا ہے ؟ آپ نے مجھے فرمایا : قیامت کے روز حشر، یہود کا حشر ہوگا فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو خیبر کی طرف جلاوطن کیا جب ان سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے چھپایا، اس وجہ سے ان کی جلا وطنی حلال ہوگئی۔ ابن عربی نے کہا : حشرتین ہیں پہلا، درمیانی اور آخری۔ پہلا بنو نضیر کی جلاوطنی ہے۔ درمیانی بنو نضیر کی خیبر کی طرف جلا وطنی ہے ؛ آخری قیامت کے روز ان کو ہانکنا ہوگا۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے : مراد بنو قریظہ ہیں۔ باقی مفسرین نے ان کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا : بنو قریظہ کو جلا وطن نہیں کیا گیا تھا بلکہ انہیں قتل کیا گیا تھا ؛ ثعلبی نے اس کی حکایت بیان کی ہے۔ مسئلہ نمبر
3
۔ ال کیا طبری نے کہا : اہل حرب سے آج اس شرط پر صلح کرنا کہ بغیر کسی شرط کے انہیں ان کے گھروں سے جلا وطن کردیا جائے یہ جائز نہیں یہ ابتداء اسلام میں تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا آج یا تو انہیں قتل کردیا جائے گا، انہیں قیدی بنا لیا جائے گا یا ان پر جز یہ نافذ کردیا جائے گا۔ ماظننتم ان یخرجوا مراد یہ ہے کہ یہودیوں کا معاملہ مسلمانوں کے دلوں میں بڑا عظیم تھا، وہ بڑے محفوظ تھے، قوی تھے اور بڑے متحد تھے اس لئے مسلمان یہ گمان نہیں کرتے تھے۔ وظنوا انھم ما نعتھم حصو نھم ایک قول یہ کیا گیا : قلعوں سے مراد وطیح، نطاہ، سلالم اور کتیبہ یہ۔ من اللہ یعنی اللہ کے حکم سے۔ وہ بڑے اسلحہ اور محفوط قلعوں والے تھے ان میں سے کوئی چیز بھی محفوظ نہ رکھ سکی۔ فاتتھم اللہ اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کا عذاب انہیں آپہنچا۔ من حیث لم یحتسبوا جہاں انہیں گمان تک نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جہاں سے انہیں علم نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد کعب بن اشرف کا قتل ہے ؛ یہ قول ابن جریج، سدی اور ابو صالح نے کیا ہے۔ وقذف فی قلوبھم الرعب ان کے سردار کعب بن اشرف کے قتل کے ساتھ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ جس صحابی نے اسے قتل کیا تھا وہ حضرت محمد بن مسلمہ حضرت ابو نائلہ سلکان بن سلالہ بن وقش (جو کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے) حضرت عباد بن بشر بن وقش، حضرت حارث بن اوس بن معاذ اور حضرت ابو عبس بن جبر ؓ تھے اس کا واقعہ سیرت کی کتاب میں مشہور ہے۔ حدیث صحیح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے “ (
1
) ۔ تو بنی نضیر کا محلہ جو ایک میل کی مسافت پر تھا وہاں آپ کی مدد کیوں نہ کی جاتی۔ یہ حضرت محمد ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے یہ شرف کسی اور کو حاصل نہیں۔ یخربون بیوتھم عام قراءت تخفیف کے ساتھ ہے۔ یہ اخرب سے مشق ہے یعنی وہ گرا دیتے ہیں۔ سلمی، حضرت حسن بصری، نصر بن عاصم، ابو العالیہ، قتادہ اور ابو عمرو نے یخربون قراءت کی ہے۔ یہ تخریب سے مشق ہے۔ حضرت ابو عمرو نے کہا : میں نے تشدید کو اس لئے پسند کیا ہے کیونکہ اخراب کا معنی ہوتا ہے کسی شے کو رہائش کے بغیر بےآباد چھوڑنا، جبکہ بنو نضیر نے اسے اس طرح نہیں چھوڑا تھا انہوں نے اسے گرا کر برباد کیا تھا۔ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کرتا ہے : بایدیھم وایدی المومنین دوسرے علماء نے کہا : تخریب اور اخراب کا معنی ایک ہی ہے اور تشدید، تکثیر کے معنی میں ہے۔ سیبویہ نے کہا : فقلت اور افعلت کا معنی ایک جیسا ہے جس طرح اخربتہ اور خربتہ، افرحتہ اور فرحتہ، ابو عبید اور ابو حاتم نے پہلے قول کو پسند کیا ہے۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا : مومن باہر سے انہیں اکھیڑ رہے تھے تاکہ اندر داخل ہوں اور یہودی اندر سے اکھیڑ رہے تھے تاکہ ان کے قلعے جو خراب کیے جا رہے ہیں انہیں درست کریں۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ وہ نہ آپ ﷺ کے خلاف کسی کی مدد کریں گے اور نہ آپ ﷺ کی مدد کریں گے۔ جب غزوہ بدر کے روز آپ کو فتح نصیب ہوئی تو انہوں نے کہا : یہی وہ نبی ہیں جن کی تورات میں صفت بیان کی گئی ہے ؛ تو اس کے جھندے کو لوٹا یا نہیں جاسکے گا (یعنی انہیں شکست نہ ہوگی) ۔ جب غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انہیں شک پڑگیا اور انہوں نے اپنے معاہدہ کو توڑ دیا۔ کعب بن اشرف چالیس سواروں کو لے کر مکہ مکرمہ گیا، کعبہ معظمہ کے پاس ان کے ساتھ معاہدہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہ انصاری کو حکم دیا تو اس نے کعب کو ایک چال کے ذریعے قتل کردیا پھر صبح کے وقت ان پر لشکروں سے حملہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا :” مدینہ طیبہ نکل جائو “۔ انہوں نے کہا : اس سے موت ہمیں زیادہ پسندیدہ ہے۔ انہوں نے جنگ کے لئے اپنے حمایتیوں کو دعوت دی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے دس روز کے لئے رسول اللہ ﷺ سے مہلت طلب کی تاکہ وہ یہاں نکل جانے کی تیاری کرلیں۔ عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں نے انہیں خفیہ پیغام بجھوایا کہ وہ قلعوں سے نہ نکلیں۔ اگر مسلمان تم سے جنگ کریں تو ہم تمہارے ساتھ ہونگے اور تمہیں بےیارومددگار نہیں چھوڑیں گے۔ اگر تمہیں یہاں سے نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے، تو اکیس دنوں تک ان کی گلیوں اور قلعوں میں محبوس رکھا گیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور یہودی منافقوں کی مدد سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے صلح کا مطالبہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے جلا وطنی کے سوا کسی بات پر اتفاق نہ کیا (
1
) ۔ جس کی وضاحت بعد میں آرہی ہے۔ زہری، ابن زید اور حضرت عروہ بن زبیر نے کہا : جب نبی کریم ﷺ نے ان سے اس بات پر صلح کرلی کہ ان کیلئے وہ کچھ ہوگا جو اونٹ اٹھا کرلے جاسکے، تو وہ جو لکڑیاں اور ستون اچھے خیال کرتے تو اپنے گھروں کو گراتے اور انہیں اپنے اونٹوں پر باندھ لیتے باقی ماندہ کو مومن برباد کردیتے۔ ابن زید سے یہ بھی مروی ہے، وہ اپنے گھروں کو اس لئے گرا رہے تھے تاکہ بعد میں مومن ان میں نہ رہیں، حضرت ابن عباس ؓ عنما نے کہا : مسلمان جب بھی ان کے گھروں میں سے کسی گھر پر غالب آئے تو اسے گرا دیتے تاکہ جنگ کا میدان وسیع ہوجائے جبکہ یہودی اپنے گھروں کی پچھلی جانب سے سوراخ کرتے تاکہ پچھلے گھر میں قلعہ بند ہوجائیں اور جس گھر سے نکالے گئے ہیں اس سے مومنوں پر تیر چلائیں (
2
) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تاکہ ان پر گلیوں کو بند کردیں۔ عکرمہ نے کہا : بایدیھ کا مصداق یہ ہے کہ وہ ان گھروں کے داخلی حصہ اور اس میں جو کچھ ہے اس کو برباد کرتے تاکہ مسلمان انہیں اپنے کام میں نہ لاسکیں۔ اور ایدی المومنین سے مراد ہے مومن ان کو باہر سے برباد کررہے تھے تاکہ اس کے ذریعے وہ یہودیوں تک پہنچ سکیں۔ عکرمہ نے کہا : ان کے مکانات بڑے اعلیٰ تھے تو انہوں نے مسلمانوں کے بارے میں حسد کیا کہ وہ ان گھروں میں رہائش اختیار کریں انہوں نے اندر کی جانب سے انہیں برباد کیا اور مومنوں نے باہر کی جانب سے انہیں برباد کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ وعدہ کو توڑ کر اپنے گھروں کو برباد کرتے ہیں اور وایدی المومنین سے مراد جنگ کرکے برباد کرتے ہیں ؛ یہ زہری کا قول ہے۔ اور عمرو بن علاء نے کہا : بایدیھم سے مراد ہے خود انہیں چھوڑنے کے ساتھ اور و ایدی المومنین سے مراد ہے مومنوں نے انہیں جلا وطن کیا۔ ابن عربی نے کہا : جب فساد کے لئے کوئی چیز پکڑی جائے تو اگر ہاتھوں کے ساتھ ہو تو یہ حقیقی معنی میں ہوگا اور جب وعدہ توڑنی کی صورت میں ہو تو یہ مجازی معنی میں ہوگا، مگر مجاز میں زہری کا قول ابو عمرو بن علاء قول سے زیادہ اچھا ہے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔ اے دانشمند ! نصیحت حاصل کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اے وہ شخص جو اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتا ہے ! یہ بصر کی جع ہے یہاں عبرت حاصل کرنے سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر قلعوں پر اعتماد کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سے نیچے اتار فو۔ اس کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسی ذات کو مسلط کردیا جو ان کی مدد کرتی تھی۔ اس کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ بھی تھی انہوں نے اپنے اموال اپنے ہاتھوں سے برباد کیے۔ جو آدی غیر سے عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس کی ذات سے عبرت حاصل کی جاتی ہے۔ امثال صحیحہ میں سے سعادت مندوہ ہے جو غیر سے نصیحت حاصل کرے۔
Top