Al-Qurtubi - At-Tawba : 53
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
سَبَّحَ : پاکیزگی بیان کرتا ہے لِلّٰهِ : اللہ کی مَا : جو فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَمَا فِي الْاَرْضِ ۚ : اور جو زمین میں وَهُوَ : اور وہ الْعَزِيْزُ : غالب الْحَكِيْمُ : حکمت والا
جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے
آیات۔ 1۔ 2 تفسیر اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ ھو الذی اخرج الذی کفروا من اھل الکتب من دیارھم حضرت سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا ؛ یہ سورة حشر ہے ؟ فرمایا : کہو سورة ٔنضیر یہ ؛ یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھا جب بنو سرائیل مصائب کا شکار ہوئے تو یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے انتظار میں مدینہ طیبہ آکر رہائش پذیر ہوئے۔ انہوں نے یہ اس لئے کیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) پر اس امر کو بیان کیا تھا (1) ۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ لاول الحشر حشر کا معنی جمع ہونا ہے۔ اس کی چار صورتیں ہیں : دو حشر دنیا میں اور دو حشر آخرت میں ہونگے۔ جو دنیا میں ہوگا اس کی طرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم لاول الحشر زہری نے کہا : وہ ایسے خاندان سے تھے انہیں جلا وطنی کی معیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا اللہ تعالیٰ نے ان پر جلا وطنی کو فرض کیا اگر ایسا نہ ہوتا تو انہیں دنیا میں عذاب دیتا (2) ۔ اول حشر سے مراد ہے کہ وہ دنیا میں شام کی طرف جمع کئے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عکرمہ نے کہا : جسے اس میں شک ہو کہ کیا محشر شام میں ہے تو وہ اس آیت کو پڑھے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا :” تم یہاں سے نکل جائو “۔ انہوں نے عرض کی : کہاں جائیں ؟ فرمایا :” ارض محشر کی طرف “۔ حضرت قتادہ نے کہا : یہ پہلا حشر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ وہ پہلے اہل کتاب ہیں جنہیں نکالا گیا ہے اور حضور ﷺ کے ملک سے جلا وطن کیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں خیبر کی طرف جلا وطن کیا گیا۔ اور لاول الحشر کا معنی ہے انہیں ان کے قلعوں سے خیبر کی طرف نکالا گیا۔ اور دوسرا حشر حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں کیبر سے نجد اور اذرعات کی طرف جلا وطن کیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تیمار اور اریحاء کی طرف جلا وطن کیا گیا۔ ان کو یہ سزا ان کے کفر اور وعدہ توڑنے کی وجہ سے دی گئی۔ جہاں تک دوسرے حشر کا تعلق ہے : یہ قیامت کے قریب ہوگا۔ حضرت قتادہ ؓ نے کہا : ایک آگ ظاہر ہوگی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک کرلے جائے گی جہاں لوگ رات گزاریں گے وہ بھی وہاں ہی رات گزارے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے وہاں آگ بھی قیلولہ کرے گی اور جو پیچھے رہ جائے گا وہ انہیں کھا جائے گی۔ یہ حدیث صحیح، ثابت ہے ہم نے اسے ” کتاب التذکرہ “ میں ذکر کیا ہے۔ اس کی مثل اب وہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہا : میں نے امام مالک سے عرض کی : اس حشر سے مراد ان کو ان کے گھروں سے جلا وطن کرنا ہے ؟ آپ نے مجھے فرمایا : قیامت کے روز حشر، یہود کا حشر ہوگا فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو خیبر کی طرف جلاوطن کیا جب ان سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے چھپایا، اس وجہ سے ان کی جلا وطنی حلال ہوگئی۔ ابن عربی نے کہا : حشرتین ہیں پہلا، درمیانی اور آخری۔ پہلا بنو نضیر کی جلاوطنی ہے۔ درمیانی بنو نضیر کی خیبر کی طرف جلا وطنی ہے ؛ آخری قیامت کے روز ان کو ہانکنا ہوگا۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے : مراد بنو قریظہ ہیں۔ باقی مفسرین نے ان کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا : بنو قریظہ کو جلا وطن نہیں کیا گیا تھا بلکہ انہیں قتل کیا گیا تھا ؛ ثعلبی نے اس کی حکایت بیان کی ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ال کیا طبری نے کہا : اہل حرب سے آج اس شرط پر صلح کرنا کہ بغیر کسی شرط کے انہیں ان کے گھروں سے جلا وطن کردیا جائے یہ جائز نہیں یہ ابتداء اسلام میں تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا آج یا تو انہیں قتل کردیا جائے گا، انہیں قیدی بنا لیا جائے گا یا ان پر جز یہ نافذ کردیا جائے گا۔ ماظننتم ان یخرجوا مراد یہ ہے کہ یہودیوں کا معاملہ مسلمانوں کے دلوں میں بڑا عظیم تھا، وہ بڑے محفوظ تھے، قوی تھے اور بڑے متحد تھے اس لئے مسلمان یہ گمان نہیں کرتے تھے۔ وظنوا انھم ما نعتھم حصو نھم ایک قول یہ کیا گیا : قلعوں سے مراد وطیح، نطاہ، سلالم اور کتیبہ یہ۔ من اللہ یعنی اللہ کے حکم سے۔ وہ بڑے اسلحہ اور محفوط قلعوں والے تھے ان میں سے کوئی چیز بھی محفوظ نہ رکھ سکی۔ فاتتھم اللہ اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کا عذاب انہیں آپہنچا۔ من حیث لم یحتسبوا جہاں انہیں گمان تک نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جہاں سے انہیں علم نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد کعب بن اشرف کا قتل ہے ؛ یہ قول ابن جریج، سدی اور ابو صالح نے کیا ہے۔ وقذف فی قلوبھم الرعب ان کے سردار کعب بن اشرف کے قتل کے ساتھ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ جس صحابی نے اسے قتل کیا تھا وہ حضرت محمد بن مسلمہ حضرت ابو نائلہ سلکان بن سلالہ بن وقش (جو کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے) حضرت عباد بن بشر بن وقش، حضرت حارث بن اوس بن معاذ اور حضرت ابو عبس بن جبر ؓ تھے اس کا واقعہ سیرت کی کتاب میں مشہور ہے۔ حدیث صحیح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے “ (1) ۔ تو بنی نضیر کا محلہ جو ایک میل کی مسافت پر تھا وہاں آپ کی مدد کیوں نہ کی جاتی۔ یہ حضرت محمد ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے یہ شرف کسی اور کو حاصل نہیں۔ یخربون بیوتھم عام قراءت تخفیف کے ساتھ ہے۔ یہ اخرب سے مشق ہے یعنی وہ گرا دیتے ہیں۔ سلمی، حضرت حسن بصری، نصر بن عاصم، ابو العالیہ، قتادہ اور ابو عمرو نے یخربون قراءت کی ہے۔ یہ تخریب سے مشق ہے۔ حضرت ابو عمرو نے کہا : میں نے تشدید کو اس لئے پسند کیا ہے کیونکہ اخراب کا معنی ہوتا ہے کسی شے کو رہائش کے بغیر بےآباد چھوڑنا، جبکہ بنو نضیر نے اسے اس طرح نہیں چھوڑا تھا انہوں نے اسے گرا کر برباد کیا تھا۔ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کرتا ہے : بایدیھم وایدی المومنین دوسرے علماء نے کہا : تخریب اور اخراب کا معنی ایک ہی ہے اور تشدید، تکثیر کے معنی میں ہے۔ سیبویہ نے کہا : فقلت اور افعلت کا معنی ایک جیسا ہے جس طرح اخربتہ اور خربتہ، افرحتہ اور فرحتہ، ابو عبید اور ابو حاتم نے پہلے قول کو پسند کیا ہے۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا : مومن باہر سے انہیں اکھیڑ رہے تھے تاکہ اندر داخل ہوں اور یہودی اندر سے اکھیڑ رہے تھے تاکہ ان کے قلعے جو خراب کیے جا رہے ہیں انہیں درست کریں۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ وہ نہ آپ ﷺ کے خلاف کسی کی مدد کریں گے اور نہ آپ ﷺ کی مدد کریں گے۔ جب غزوہ بدر کے روز آپ کو فتح نصیب ہوئی تو انہوں نے کہا : یہی وہ نبی ہیں جن کی تورات میں صفت بیان کی گئی ہے ؛ تو اس کے جھندے کو لوٹا یا نہیں جاسکے گا (یعنی انہیں شکست نہ ہوگی) ۔ جب غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انہیں شک پڑگیا اور انہوں نے اپنے معاہدہ کو توڑ دیا۔ کعب بن اشرف چالیس سواروں کو لے کر مکہ مکرمہ گیا، کعبہ معظمہ کے پاس ان کے ساتھ معاہدہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہ انصاری کو حکم دیا تو اس نے کعب کو ایک چال کے ذریعے قتل کردیا پھر صبح کے وقت ان پر لشکروں سے حملہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا :” مدینہ طیبہ نکل جائو “۔ انہوں نے کہا : اس سے موت ہمیں زیادہ پسندیدہ ہے۔ انہوں نے جنگ کے لئے اپنے حمایتیوں کو دعوت دی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے دس روز کے لئے رسول اللہ ﷺ سے مہلت طلب کی تاکہ وہ یہاں نکل جانے کی تیاری کرلیں۔ عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں نے انہیں خفیہ پیغام بجھوایا کہ وہ قلعوں سے نہ نکلیں۔ اگر مسلمان تم سے جنگ کریں تو ہم تمہارے ساتھ ہونگے اور تمہیں بےیارومددگار نہیں چھوڑیں گے۔ اگر تمہیں یہاں سے نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے، تو اکیس دنوں تک ان کی گلیوں اور قلعوں میں محبوس رکھا گیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور یہودی منافقوں کی مدد سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے صلح کا مطالبہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے جلا وطنی کے سوا کسی بات پر اتفاق نہ کیا (1) ۔ جس کی وضاحت بعد میں آرہی ہے۔ زہری، ابن زید اور حضرت عروہ بن زبیر نے کہا : جب نبی کریم ﷺ نے ان سے اس بات پر صلح کرلی کہ ان کیلئے وہ کچھ ہوگا جو اونٹ اٹھا کرلے جاسکے، تو وہ جو لکڑیاں اور ستون اچھے خیال کرتے تو اپنے گھروں کو گراتے اور انہیں اپنے اونٹوں پر باندھ لیتے باقی ماندہ کو مومن برباد کردیتے۔ ابن زید سے یہ بھی مروی ہے، وہ اپنے گھروں کو اس لئے گرا رہے تھے تاکہ بعد میں مومن ان میں نہ رہیں، حضرت ابن عباس ؓ عنما نے کہا : مسلمان جب بھی ان کے گھروں میں سے کسی گھر پر غالب آئے تو اسے گرا دیتے تاکہ جنگ کا میدان وسیع ہوجائے جبکہ یہودی اپنے گھروں کی پچھلی جانب سے سوراخ کرتے تاکہ پچھلے گھر میں قلعہ بند ہوجائیں اور جس گھر سے نکالے گئے ہیں اس سے مومنوں پر تیر چلائیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تاکہ ان پر گلیوں کو بند کردیں۔ عکرمہ نے کہا : بایدیھ کا مصداق یہ ہے کہ وہ ان گھروں کے داخلی حصہ اور اس میں جو کچھ ہے اس کو برباد کرتے تاکہ مسلمان انہیں اپنے کام میں نہ لاسکیں۔ اور ایدی المومنین سے مراد ہے مومن ان کو باہر سے برباد کررہے تھے تاکہ اس کے ذریعے وہ یہودیوں تک پہنچ سکیں۔ عکرمہ نے کہا : ان کے مکانات بڑے اعلیٰ تھے تو انہوں نے مسلمانوں کے بارے میں حسد کیا کہ وہ ان گھروں میں رہائش اختیار کریں انہوں نے اندر کی جانب سے انہیں برباد کیا اور مومنوں نے باہر کی جانب سے انہیں برباد کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ وعدہ کو توڑ کر اپنے گھروں کو برباد کرتے ہیں اور وایدی المومنین سے مراد جنگ کرکے برباد کرتے ہیں ؛ یہ زہری کا قول ہے۔ اور عمرو بن علاء نے کہا : بایدیھم سے مراد ہے خود انہیں چھوڑنے کے ساتھ اور و ایدی المومنین سے مراد ہے مومنوں نے انہیں جلا وطن کیا۔ ابن عربی نے کہا : جب فساد کے لئے کوئی چیز پکڑی جائے تو اگر ہاتھوں کے ساتھ ہو تو یہ حقیقی معنی میں ہوگا اور جب وعدہ توڑنی کی صورت میں ہو تو یہ مجازی معنی میں ہوگا، مگر مجاز میں زہری کا قول ابو عمرو بن علاء قول سے زیادہ اچھا ہے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔ اے دانشمند ! نصیحت حاصل کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اے وہ شخص جو اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتا ہے ! یہ بصر کی جع ہے یہاں عبرت حاصل کرنے سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر قلعوں پر اعتماد کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سے نیچے اتار فو۔ اس کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسی ذات کو مسلط کردیا جو ان کی مدد کرتی تھی۔ اس کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ بھی تھی انہوں نے اپنے اموال اپنے ہاتھوں سے برباد کیے۔ جو آدی غیر سے عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس کی ذات سے عبرت حاصل کی جاتی ہے۔ امثال صحیحہ میں سے سعادت مندوہ ہے جو غیر سے نصیحت حاصل کرے۔
Top