Mualim-ul-Irfan - Aal-i-Imraan : 78
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
سَبَّحَ : پاکیزگی بیان کرتا ہے لِلّٰهِ : اللہ کی مَا : جو فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَمَا فِي الْاَرْضِ ۚ : اور جو زمین میں وَهُوَ : اور وہ الْعَزِيْزُ : غالب الْحَكِيْمُ : حکمت والا
پاکی بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے لئے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں ، اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے
نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحشر ہے جو کہ اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ الحشر سے ماخوذ ہے۔ حشر کا معنی اکٹھا ہونا ہے۔ مدینہ کے یہودیوں بنی نضیر نے جب معاہدہ مدینہ کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے خلاف غداری کی تو ان کو مدینہ سے نکال دیا گیا۔ اس کام کے لئے اہل ایمان کا جو لشکر اکٹھا ہوا تھا اس کو اول الحشر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی یہ اسلامی لشکر کا پہلا اجتماع تھا۔ بعض دوسرے مواقع پر بھی یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے لشکر اسلام جمع ہوتارہا۔ چناچہ بعض مفسرین کے نزدیک خیبر کے یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے جو لشکر جمع ہوا تھا اس کو حشرثانی کہا جاتا ہے۔ اور پھر آخری حشر قیامت والے دن ہوگا جب سب لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ سورة کے آخری حصے میں اس حشر کا ذکر بھی آرہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس سورة کا ایک نام سورة بنی نضیر بھی بتاتے ہیں کیونکہ اس سورة میں اسی قبیلہ کی جلاوطنی کا تذکرہ ہے۔ بہرحال یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ جب کہ جنگ احد واقع ہوچکی تھی۔ اس سورة مبارکہ کی چوبیس آیات…………اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 745 الفاظ اور 1712 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : گزشتہ سورة مجادلہ کے آخر میں اللہ نے فرمایا کتب اللہ……………ورسلی (آیت 21) اللہ نے لکھ دیا ہے کہ مجھے اور میرے رسولوں کو ضرور غلبہ حاصل ہوگا۔ اب اس سورة کے آغاز میں اللہ نے ایسے ہی ایک غلبے کا نمونہ بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ سورة ہذا میں منافقین کی ریشہ دوانیوں کا ذکر ہے۔ یہودیوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر اللہ نے فرمایا ہے۔ مال فے کے احکام تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں ۔ مہاجرین اور انصار مدینہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور پھر آخر میں توحید خداوندی اور اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی تسبیح : سورۃ کا آغاز خدا تعالیٰ کی تسبیح اور تنزیہہ سے ہوتا ہے سبح للہ ما فی السموت وما فی الارض اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے جو بھی ہے آسمانوں میں اور زمین میں ارض وسما کی ہر چیز خواہ وہ جاندار ہے یا بےجان سب اللہ کی تنزیہہ بیان کرتی ہیں۔ ملائکہ ، جن اور انسان تو اپنے پروردگار کی اپنی زبان کے ساتھ تسبیح وتنزیہہ بیان کرتے ہیں جب کہ غیر ناطق چیزیں چرند ، پرند ، کیڑے مکوڑے ، مچھلیاں اور دیگر ساری مخلوق بھی اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بےجان چیزوں میں شمس وقمر اور شجر وحجر غرضیکہ ساری مخلوق اس کی وحدانیت کا اقرار کرتی ہے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وان من……………………تسبیحھم (بنی اسرائیل 44) ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے مگر تم ان کی تسبیح کہ نہیں سمجھتے کہ وہ کس زبان میں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کی تسبیح وتنزیہہ کا یہ مطلب ہے کہ وہ قادر مطلق اور معبود برحق ہے خالق اور مالک ہے ، نافع اور صنار ہے ، وہ ہر چیز پر نگران ہے اور محافظ ہے ، وہ وحدہ لاشریک ہے ، ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے ، وہ تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے۔ تمام صفات کمال کے ساتھ متصف ہے ، اس کی کوئی اولاد نہیں ، نہ وہ کھاتا پیتا ہے اور نہ اس پر ضعف اور بڑھاپا طاری ہوتا ہے۔ اس کو خاندان اور نسل کی ضرورت نہیں ، نہ ہی اسے کسی خدمت کی ضرورت ہے ، اور وہ ہر طریقے سے بےعیب ہے۔ غرضیکہ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے وھوالعزیز الحکیم اور وہ زبردست ، کمال قدرت کا مالک اور حکمت والا ہے۔ معاہدہ مدینہ : حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں مدینہ کے اطراف میں بہت سے یہودی قبائل آباد تھے۔ یہ دراصل اوس اور خزرج کے لمبے چوڑے قبائل کے لوگ تھے جو تقریباً ایک ہزار سال پہلے یمن کی طرف سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔ یہ قحطانی نسل کے لوگ تھے۔ ان قبائل میں سے بعض لوگ حج کے موقع پر مکہ معظمہ جاکر حضور ﷺ کے ہاتھ پر ایمان قبول کرچکے تھے اور انہی کی وجہ سے مدینہ اسلام کا تعارف ہوا۔ پھر آپ کی ہجرت سے ایک سال قبل انہوں نے حضور ﷺ کو دعوت دی کہ وہ مکہ چھوڑ کر مدینہ آجائیں کیونکہ یہاں پر اسلام کی آبیاری کی کافی گنجائش موجود تھی۔ ان قبائل کے علاوہ بعض قبائل شام و فلسطین سے ترک وطن کرکے مدینہ کے اطراف میں آباد ہوچکے تھے۔ شام و فلسطین کو بخت نصر نے برباد کیا ۔ اس سے پہلے رومیوں نے ان کو مغلوب کیا ، چناچہ بعض اسرائیلی قبائل شام و فلسطین کو چھوڑ کر یہاں مدینہ آچکے تھے جن میں بنی قریظہ ، بنی نضیر اور بنی قینقاع مشہور قبائل تھے۔ ان کے علاوہ خیبر میں بھی کچھ یہودی آباد تھے۔ یہ سارے لوگ اچھے خاصے آسودہ حال تھے۔ یہاں ان کی بستیاں ، گڑھیاں اور قلعے تھے ، کھیتی باڑی اور تجارت دونوں کاموں کے ماہر تھے۔ ان کی ملکیت میں کھجوروں کے باغات تھے اور اس کے علاوہ بھی زرعی زمینیں تھیں۔ ان کی اصل زبان تو عبرانی یا سریانی تھی۔ مگر یہاں آکر انہوں نے عربی زبان اپنالی تھی ، تاہم مذہب کے لحاظ سے یہ یہودی تھے اور اپنی تمام مذہبی رسومات ادا کرتے تھے۔ حضور ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے سارے سرکردہ لوگوں کو اکٹھا کیا اور ایک معاہدہ کرنے کی پیش کش کی جس کا مطلب یہ تھا کہ مدینے کے رہنے والے تمام لوگ خواہ ان کا تعلق کسی مذہب سے ہو وہ سب ایک متحدہ محاذ کے رکن سمجھے جائیں گے۔ ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے اپنے مذہب پر قائم رہنے اور اپنے طریقے سے عبادت کرنے اور رسومات ادا کرنے کی اجازت ہوگی… اور کوئی ایک مذہب والا دوسرے مذہب والے کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ اور نہ ہی کوئی ایک دوسرے کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کریگا۔ البتہ سیاسی لح اس سے سب لوگ ایک جماعت سمجھے جائیں گے اور اگر کوئی بیرونی طاقت مدینہ پر حملہ آور ہوگی تو یہ سب یکمشت ہو کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ معاہدہ کی ایک شق یہ بھی تھی کہ اگر معاہدہ کے دستخط کنندگان میں سے کسی فریق پر کوئی باہر سے حملہ آور ہوتا ہے اور کوئی دوسرا فریق اگر بوجوہ اپنے حلیف کی مدد نہ بھی کرے تو کم از کم وہ بیرونی حملہ آور کی مدد بھی نہیں کرے گا۔ سیاسی لحاظ سے اس معاہدہ کی سب کی ضرورت تھی کیونکہ ہر گروہ اور قبیلہ امن وامان اور اپنی حفاظت کی ضمانت چاہتا تھا جو اس معاہدہ کے ذریعے میسر آگئی تھی۔ کوئی شخص کسی بھی مذہب ، نسل یا خطے سے تعلق رکھتا ہو وہ شر پسند قوتوں سے پناہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کمال اور خوبی کو اپنانا اور شر سے بچنا انسان کے فطری حقوق ہیں۔ تو حضور ﷺ نے مدینے کے تمام لوگوں کو اس معاہدہ پر جمع کرلیا اور سب نے دستخط کردیے۔ بنی نضیر کی معاہدہ شکنی : جب بدر کی جنگ میں مسلمانوں کو نمایاں کامیابی ہوئی تو یہودی لوگ کہنے لگے کہ یہ تو وہی نبی آخرالزماں معلوم ہوتا ہے جس کی پیشن گوئی تورات میں موجود ہے۔ پھر ایک سال کے بعد جب احد میں مسلمانوں پر افتاد پڑی تو یہودی کہنے لگے کہ یہ تو وہ نبی نہیں ہے۔ چناچہ یہ لوگ آپ کے خلاف ہوگئے اور آپ کے مشن کو ناکام کرنے کے لئے طرح طرح کی سازشیں کرنے لگے۔ بنی نضیر کا ایک سرکردہ آدمی کعب بن اشرف بڑا مالدار آدمی تھا ، اس کی تجارت سارے عرب میں پھیلی ہوئی تھی۔ سود خور آدمی تھا ، اس کا اپنا قلعہ ، نوکر چاکر اور سازوسامان تھا۔ یہ شخص اسلام دشمنی میں پیش پیش تھا چناچہ یہ شخص چالیس آدمیوں کا ایک وفد لے کر مکہ گیا۔ وہاں پر ابو سفیان سے ملا اور پیش کش کی کہ اگر قریش مدینہ پر حملہ آور ہوں تو اس کا قبیلہ ان کی مدد کرے گا۔ کعب بن اشرف شاعر بھی تھا۔ اور حضور ﷺ کے خلاف فحش گوئی بھی کرتا تھا جس کی وجہ سے آپ اس سے سخت نالاں تھے۔ حضور ﷺ نے اشارہ کیا تو اس بدبخت کے رضاعی بھائی اور حضور ﷺ کے صحابی محمد بن مسلمہ کو اللہ نے توفیق دی اور اس نے کعب بن اشرف کا کام تمام کردیا۔ اسی دوران میں بر موعونہ والا واقعہ بھی پیش آیا جس میں کافروں نے مسلمانوں کے ستر قاری اور حافظ حضرات کو شہید کردیا۔ اس واقعہ سے بھی مسلمانوں کو سخت صدمہ پہنچا۔ اسی دوران ایک صحابی عمرو ابن امیہ ضمری ؓ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کسی سفر پر تھے پر تھے کہ انہوں نے دشمن کے آدمی سمجھ کر دو آدمیوں کو قتل کردیا حالانکہ وہ معاہد تھے۔ چونکہ یہ قتل غلطی سے ہوا تھا۔ اس لئے حضور ﷺ ان ان مقتولوں کا دو سو اونٹ ان کے وارثوں کو خونبہا دینے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لئیحضور ﷺ نے اہل مدینہ اور دیگر معاہدین سے مال جمع کرنا شروع کیا اور اس مقصد کے لئے آپ قبیلہ بنی نضیر کے ہاں بھی گئے۔ یہ لوگ مدینہ سے مشرقی جانب پانچ چھ کوس کے فاصلہ پر آباد تھے۔ وہاں پر ان کے باغات ، مکانات ، قلعے اور زمین تھی۔ ان لوگوں نے بظاہر خون بہا میں حصہ دینے کی حامی بھرلی۔ مگر درپردہ حضور ﷺ کے قتل کی سازش بھی کی۔ چناچہ وہ ایک مکان کی چھت پر چکی کا ایک بڑا پاڑلے گئے۔ ارادہ یہ تھا کہ حضور ﷺ اس مکان کی دیوار کے سائے میں بیٹھے ہیں ، وہاں یہ پتھر گرا کر آپ کا کا م تمام کردیا جائے گا۔ مگر اللہ نے اس سازش کی اطلاع حضور ﷺ کو بذریعہ وحی دے دی لہٰذا آپ اس دیوار کے سائے سے فوراً اٹھ بیٹھے۔ بنی نضیر پر چڑھائی : الغرض ! بنی نضیر کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی ، عہدشکنی اور پے درپے سازشوں نے اہل ایمان کو مجبور کردیا کہ ان پر چڑھائی کرکے ان کو تہس نہس کردیا جائے۔ ان کے خلاف بہت سے جرائم ثابت ہوچکے تھے حتیٰ کہ یہ لوگ غداری کے مرتکب بھی ہوئے جسے دنیا کا کوئی قانون بھی معاف نہیں کرتا۔ ہم آج کی دنیا میں بھی دیکھتے ہیں کہ روس میں بیریانامی پولیس انسپکٹر کے خلاف جو پچیس برس تک حکومت کا ملازم رہا تھا مقدمہ چلا اور مجرم ثابت ہونے پر اسے گولی سے اڑا دیا گیا۔ انگریزوں کے وزیر ہند مسٹر ایمری کا بیٹا جنگ کے دوران غداری کے الزام میں پکڑا گیا تو اسے سزائے موت سنائی گئی ، مگر بات نے اس کی معافی کی درخواست بھی نہ کی کیونکہ جرم ہی سخت نوعیت کا تھا۔ بہرحال مسلمانوں نے بنی نضیر پر اسی جرم کی پاداش میں چڑھائی کا فیصلہ کرلیا۔ مسلمانوں کا لشکر اچانک ان پر حملہ آور ہوا اور ان کا محاصرہ کرلیا۔ انہوں نے گھبرا کر صلح کی درخواست کی۔ گفت و شنید کے بعد یہ فیصلہ ہوا۔ کہ اگر یہ لوگ مدینہ سے نکل جانے پر آمادہ ہوجائیں تو ان کی جانوں سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ یہودیوں کو یہ رعایت بھی دے دی گئی کہ وہ جاتے وقت جس قدر سامان اٹھا کرلے جاسکیں لے جائیں۔ بنی نضیر نے یہ شرائط قبول کرلیں اور اپنا سازو سامان جس قدر اٹھا سکتے تھے لے کر چلے گئے۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ اپنے مکانوں کی چھتیں اور دروازے بھی اکھاڑ کرلے گئے۔ البتہ ان کی زمینیں باغات وغیرہ رہ گئیں جن کو حضور ﷺ نے اللہ کے حکم سے اس کا زیادہ تر حصہ مہاجرین میں تقسیم کردیا کیونکہ انصار مدینہ پر مہاجرین کا کافی بوجھ تھا۔ اس تقسیم سے مہاجرین بہت حد تک اپنے پائوں پر کھڑے ہوگئے اور اس طرح انصار کا بوجھ بھی قدرے ہلکا ہوگیا۔ حضور ﷺ نے اس میں سے اپنے گھر کے اخراجات کے لئے بھی حصہ مقرر فرمایا اور جو کچھ بچ گیا اسے اللہ کے راستے میں خرچ کردیا۔ غرضیکہ بنی نضیر کی غداری کی وجہ سے ان کا یہ بھیانک انجام ہوا۔ بنی نضیر کی جلاوطنی : اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اسی واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیاریھم لاول الحشر ، اللہ کی ذات وہ ہے جس نے اہل کتاب میں سے کفر کرنے والوں کو نکالا ان کے گھروں سے لشکر کے پہلے اجتماع کے موقع پر اول الحشر کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کو ترک وطن کے لئے اکٹھا کیا گیا اور وہ اپنا گھربار چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور ہوگئے۔ ان میں سے اکثر شام و فلسطین کی طرف چلے گئے۔ تاہم دو خاندان حی بن اخطب اور ابولحقیق خیبر میں آباد ہوگئے ، ایک اور خاندان عراق کی طرف چلا گیا۔ ان کے قلعے اور مکانات اس قدر مضبوط تھے کہ فرمایا ماظننتم ان یخرجوا کہ تم نہیں خیال کرتے تھے کہ یہ لوگ آسانی سے نکل جائیں گے وظنوا انھم ما نعتھم حصونھم من اللہ اور وہ خود بھی یہی گمان کرتے تھے کہ ان کے قلعے اللہ سے ان کی حفاظت کریں گے۔ مگر اللہ نے ان کو ایسے طریقے سے سزا دی اور ان پر اس طرح عذاب آیا جو کہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا فاتھم اللہ من حیث لم یحتسبوا ، پھر ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایسا عذاب آیا جو ان کے گمان میں بھی نہیں تھا۔ یہ سب ان کی سازشوں اور غداری کا نتیجہ تھا جو ان کو بھگتنا پڑا وقذف فی قلوبھم الرعب اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان پر اہل ایمان کا اس قدر رعب پڑا کہ ان کے پاس اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگ جانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور پھر ان کی حالت یہ تھی یخربون بیوتھم باییمھم کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے۔ جب حضور ﷺ نے ان کی یہ درخواست قبول کرلی کہ وہ جو کچھ ساتھ لے جاسکتے ہیں لے جائیں ، تو انہوں نے خود اپنے گھروں کو گرانا شروع کردیا اور ان کی چھتوں اور دروازوں کی لکڑیاں بھی اٹھا کرلے گئے۔ فرمایا انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھر تباہ کر گئے وایدی المومنین ، اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے بھی ان کی تباہی آئی۔ جب مسلمانوں نے بنی نضیر کا محاصرہ کرلیا تو ان کو باہر نکلنے پر مجبور کرنے کے لئے مسلمانوں نے ان کے کچھ درخت بھی کاٹے تھے اور ان کے قلعوں کو توڑنے کے لئے بھی کچھ کام کیا تھا جس کا ذکر یہاں ہورہا ہے۔ اللہ نے فرمایا فاعتبروا یاولی الابصار ، اے آنکھیں رکھنے والو ! اور ایسے واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والو ! اسی سے عبرت حاصل کرو کہ کفر ، شرک ظلم ، شرارت اور بد عہدی کا یہی انجام ہوتا ہے۔ تمام ظاہری اسباب یہودیوں کے حق میں تھے۔ ان کے مضبوط قلعے تھے جن میں محصور تھے ، مال و دولت کی کمی نہیں تھی ، خوردونوش کی اشیاوافر تھیں مگر وہ چند دن کے بعد ہی جلاوطنی پر مجبور ہوگئے ، اللہ نے ان کے دلوں میں مسلمان قوم کا اس قدر رعب ڈال دیا تھا۔ فرمایا ولولا ان کتب اللہ علیھم الجلاء لعذبھم فی الدنیا اگر اللہ نے ان کے لئے جلاوطنی نہ لکھی ہوتی یعنی ان کے حق میں جلاوطنی کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو ان کو دنیا میں ہی سزا دے دیتا اور وہ سب مارے جاتے ، مگر اللہ نے ان کی جلاوطنی پر اکتفا کرتے ہوئے انہیں زندہ سلامت نکل جانے کی اجازت دے دی۔ اور اس فیصلے کے بعد کسی مسلمان نے ان کی کسی چیز کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ یہ اہل ایمان کے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھا۔ فرمایا اگر اللہ نے ان کے لئے جلاوطنی ۔ نہ لکھ دی ہوتی تو انہیں دنیا میں ہی سزا دے دیتا۔ ولھم فی الاخرۃ عذاب النار اور ان کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب تو بہرحال ہے جس سے انہیں دوچار ہونا ہی پڑے گا۔ قبیلہ بنی نضیر کے صرف دو آدمی ایمان لانے کی وجہ سے جلاوطنی سے بچ گئے جب کہ باقی سارے جلاوطن ہوئے اور ا ہیں اپنی غیر منقولہ جائیدادوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ فرمایا یہ سزا ان لوگوں کو اس لئے ملی ذلک بانھم شاقوا اللہ ورسولہ کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کو شعار بنایا۔ ومن یشاق اللہ ، اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔ فان اللہ شدید العقاب ، بیشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں اور آخرت کا عذاب اس پر مستزاد ہے۔
Top