Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Hashr : 4
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
سَبَّحَ : پاکیزگی بیان کرتا ہے لِلّٰهِ : اللہ کی مَا : جو فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَمَا فِي الْاَرْضِ ۚ : اور جو زمین میں وَهُوَ : اور وہ الْعَزِيْزُ : غالب الْحَكِيْمُ : حکمت والا
جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے
1۔ 5۔ مستدرک 3 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے چھ مہینے بعد بنی نضیر کا محاصرہ ہوا اور پھر ان کی جلا وطنی ہوئی اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے بنی نضیر نے مشرکین مکہ اور مدینہ کے منافقوں سے مسلمانوں کی بدخواہی کی غرض سے میل جول پیدا کرنے میں تو اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کی تھی مگر بنی نضیر کی ایک بہت بڑی مخالفت یہ تھی کہ بیر 1 ؎ معونہ کی بدعہدی کے جھگڑے میں جب بڑے بڑے عالم ستر صحابہ شہید ہوئے اور صحابیوں میں سے عمرو بن امیہ ایک صحابی بچ کر مدینہ کو آرہے تھے راستہ میں ان کو بنی عامر قبیلہ کے دو شخص ملے۔ ان دونوں شخصوں کا خون بہا بنی نضیر کے مشورہ سے ادا کردیا جائے کیونکہ بنی نضیر اور بنی عامر کی دوستی تھی۔ اسی خون بہا کے مشورے کے لئے چند صحابہ کو ساتھ لے کر آنحضرت ﷺ بنی نضیر کی گڑھی میں تشریف لے گئے اور خون بہا کے باب میں بات چیت کی۔ ظاہر میں تو بنی نضیر کے لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے اچھی طرح بات چیت کی لیکن باطن میں ان لوگوں کا یہ قصہ ہوا کہ جس دیوار کے پاس آنحضرت ﷺ بیٹھے تھے اس دیوار کی آڑ میں سے ایک بہت بڑا پتھر آپ ﷺ پر نیچے گرا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ارادہ سے اپنے رسول ﷺ کو آگاہ کردیا اور آپ ان لوگوں کے ارادہ سے آگاہ ہو کر مدینہ کو واپس تشریف لے آئے اور آپ ﷺ نے بنی نضیر پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ چڑھائی سے پہلے آنحضرت ﷺ کے فرمانے کے موافق محمد بن مسلمہ ایک صحابی نے کعب بن اشرف بنی نضیر کے سردار کو قتل کیا اور پھر آنحضرت ﷺ نے بنی نضیر پر چڑھائی کی اور ان کی گڑھی کو گھیر لیا اور ان کو جلا وطن کردیا۔ ان آیتوں میں اللہ نے وہی قصہ ذکر فرمایا ہے کہ بنی نضیر پر اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کے سبب سے آفت آئی۔ بیر معونہ کا قصہ 2 ؎ اور کعب 3 ؎ بن اشرف کے قتل کا قصہ صحیح بخاری اور حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے بیر معونہ کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ بیر معونہ مکہ اور عسفان کے بیچ میں ہذیل کی بستیوں میں کی ایک بستی ہے۔ رعل و ذکو ان قبیلہ کے کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے اپنی قوم کی مدد کے لئے کسی قدر آدمیوں کی خواہش ظاہر کی اور آپ نے انصار کے ستر آدمی ان کے ساتھ کردیئے۔ رعل وزکوان قبیلہ کے لوگوں نے عہد شکنی کرکے ان انصار کو اس بیر معونہ کے مقام پر شہید کر ڈالا۔ کعب بن اشرف کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ یہ شخص بڑا شاعر تھا اکثر آنحضرت ﷺ کی ہجو میں شعر کہا کرتا تھا اور طرح طرح کی شرارت اس کی عادت میں تھی آنحضرت ﷺ نے ایک دن صحابہ ؓ کے رو برو اس کی شرارتوں کا تذکرہ کیا۔ اس پر محمد بن مسلمہ ایک صحابی نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں اس کو قتل کر ڈالوں۔ آپ نے اس کی اجازت دی اور محمد بن مسلمہ نے موقع پاکر کعب بن اشرف کا کام تمام کردیا۔ بنی قینقاع ‘ بنی نضیر ‘ بنی قریظہ یہود کے یہ تین قبیلے مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے اور ان تینوں قبیلوں سے آنحضرت ﷺ کا صلح قائم رکھنے کا معاہدہ تھا لیکن رفتہ رفتہ ان تینوں قبیلوں نے عہد شکنی کی جس کی سزا میں بنی قینقاع اور بنی نضیر ان دونوں قبیلوں کو تو جلا وطنی نصیب ہوئی اور بنی قریظہ قتل کئے گئے۔ چناچہ ان کے قتل کا قصہ سورة احزاب میں گزرا سب مفسروں کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سورة میں یہود کے بنی نضیر قبیلہ کا ذکر ہے۔ فقط حسن بصری اس کے مخالف ہیں۔ ان کا قول یہ ہے کہ اس سورة میں بنی قریظہ کا ذکر ہے لیکن یہ قول اس سبب سے تردد طلب ہے کہ اس سورة میں جلا وطنی کا ذکر ہے اور بنی قریظہ کی جلا وطنی نہیں ہوئی بلکہ ان کو تو قتل کیا گیا ہے۔ اس جلا وطنی میں بنی نضیر نواح مدینہ سے اجڑ کر خیبر میں جا کر آبا ہوئے۔ اور پھر حضرت عمر ؓ کی خلافت میں وہاں سے جلا وطن ہو کر ملک شام میں جا کر بسے۔ اس لئے ان کی اس پہلی جلا وطنی کو پیشن گوئی کے طور پر اول حشر فرمایا۔ حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ بنی نضیر کی گڑھی کی مضبوطی کے سبب سے نہ اہل اسلام کو یہ گمان تھا کہ ایسی مضبوط گڑھی اس طرح جلدی سے خالی ہوجائے گی نہ بنی نضیر کو یہ خیال تھا کہ اس طرح وقت پر گڑھی سے ان کو پناہ نہ ملے گی مگر اللہ کی حکمت ایسی زبردست ہے کہ اس کی قدرت اور حکمت سے جو کچھ ہوا وہ لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ حشر کے معنی کسی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نکال دینا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے دل میں لشکر اہل اسلام کی ایسی ہیبت پیدا کردی کہ وہ لڑائی کی جرأت نہ کرسکے بلکہ جلا وطنی پر راضی ہوگئے جلا وطنی کے وقت یہ امر قرار پایا کہ تین آدمیوں میں ایک اونٹ بار برداری کو دیا جائے اور ایک مشک پانی پینے کو دی جائے اور اس ایک اونٹ پر جو چیز لا دی جاسکے وہ یہ لوگ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں اس واسطے گھروں میں کا کڑی تختہ اور جو چیز ان کو اچھی معلوم ہوتی تھی اس کو وہ اونٹوں پر لادنے کے لئے گھروں کو توڑ پھوڑ کر نکال رہے تھے اور گڑھی کے باہر جو بنی نضیر کا کھجوروں کا باغ تھا اہل اسلام نے اس کے کچھ پیڑ جلا دیئے تھے اور کچھ کاٹ ڈالتے تھے اسی کو قابل عبرت ذلت اور ویرانی فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جلا وطنی کی ذلت اور ویرانی ان لوگوں کی قسمت میں نہ لکھی ہوتی تو اللہ اور رسول کی مخالفت کے سبب سے ان پر کوئی اور آفت آتی پیڑوں کو پہلے تو اہل اسلام نے اس لئے کاٹا اور جلایا کہ اس کی جلن سے بنی نضیر گڑھی کے باہر نکل آئیں لیکن پھر اہل اسلام کے دل میں خیال گزرا کہ کہیں اس کا کچھ گناہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی یہ تسکین فرمائی کہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ نے وہ تمہارے دل میں ڈالا ہے کہ تمہارے دشمنوں کی ذلت اس میں تھی۔ لینۃ کھجور کی ایک قسم ہے یا کھجور کے پیڑ کو کہتے ہیں۔ (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 187 ج 6۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 331 ج 4۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب غزوۃ الرجیع و دعلی و ذکوان الخ ص 586 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب قتل کعب بن اشرف ص 576 ج 2۔ )
Top