Mualim-ul-Irfan - Al-Muminoon : 101
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ
فَاِذَا : پھر جب نُفِخَ : پھونکا جائے گا فِي الصُّوْرِ : صور میں فَلَآ اَنْسَابَ : تو نہ رشتے بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان يَوْمَئِذٍ : اس دن وَّلَا يَتَسَآءَلُوْنَ : اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے
پھر جس وقت پھونک ماری جائیگی صور میں تو ان کے درمیان نسب (قرابتیں) نہیں ہوں گی اس دن ، اور نہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک کام انجام دیں گے ، شرک کی بجائے توحید کو اختیار کریں گے اور گمراہی کی بجائے ہدیات کے راستے پر چل نکلیں گے اللہ نے فرمایا ان کی یہ خواہش ہرگز پوری نہیں ہوگی ، بلکہ یہ لوگ قیامت کے دن تک دنیا اور آخرت کے درمیان عالم برزخ میں رہیں گے اور وہاں بھی انہیں سزا کا احساس ہوتا رہے گا۔ صوراسرافیل : اب اللہ نے وقوع قیامت کا حال بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ فاذانفخ فی الصور پس جب صور میں پھونکا جائے گا۔ یعنی برزخی زندگی ختم ہو کر آخرت کا دور شروع ہوگا۔ فلا انساب بینھم یومئذ اس دن مجرموں کے درمیان کوئی نسب اور قرابت داری نہیں ہوگی یعنی ایک دوسرے کا خاندانی لحاظ بھی نہیں ہوگا ، ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی۔ ولا یتسائلون اور نہ ہی وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ مطلب یہ کہ ایک دوسرے کا حال پوچھنے کی ہوش بھی نہیں ہوگی۔ صور پھونکنے کا ذکر قرآن پاک میں مختلف مقامات پر آیا ہے نفخہ صور دودفعہ واقع ہوگا۔ جب پہلی مرتبہ صور میں پھونکا جائے گا تو کائنات کی ہر چیز درہم برہم ہوجائے گی۔ پھر جب دوسری مرتبہ صور میں پھونکا جائے گا۔ تو ساری مخلوق دوبارہ زندہ ہوجائے گی اور پھر ان کا حساب کتاب اور جزاوسزاکا فیصلہ ہوگا۔ ان (مسلم 406 ج 2 بخاری ص 735 ج 2) دو نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ حدیث (ترمذی 466) میں آتا ہے کہ ایک شخص نے دریافت کیا ، حضور ! صور کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک قرن یعنی سینگ جیی چیز ہے جس کا منہ ایک طرف سے تنگ اور دوسری طرف سے کشادہ ہے۔ تنگ حصہ فرشتے کے منہ میں ہے اور وہ اللہ کے حکم کے انتظار میں ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ اس میں پھونک مار دے ، ترمذی شریف اور بعض دوسری کتابوں میں یہ حدیث (ترمذی ص 467 (فیاض) بھی آتی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں یا کیسے بےفکر ہوسکتا ہوں۔ جب کہ صور پھونکنے والا فرشتہ بالکل تیارکھڑا ہے ، منہ میں صور تھامے ہوئے ہے ، اس نے اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اللہ کے حکم کا منتظر ہے ، یہ سن کر صحابہ کرام ؓ پریشان ہوگئے تو حضور ﷺ نے فرمایا قولواحسبنا اللہ ونعم الوکیل علی اللہ توکلنا خدا تعالیٰ کی طرف دھیان رکھو اور اس طرح کہو ، ہمارے لئے اللہ ہی کافی جو بہترین کارساز ہے اور ہم اسی پر بھروسہ کرتے ہیں مشکلوں کو آسان کرنے والی وہی ذات ہے۔ شیخ ابن عربی (رح) نے ایک کشفی روایت بیان کی جس کو محدثین بھی بیان کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نیحضور ﷺ سے دریافت کیا کہ صور کیا (عرف شذی ص 469 طبع رحمییہ دیوبند (فیاض) ہے تو آپ نے فرمایا تو آپ نے فرمایا کہ صور اتنا بڑا ہے کہ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینیں اس کے دھانے میں پڑی ہوئی ہیں۔ جب اس میں پھونک ماری جائے گی تو آسمانی کروں سمیت زمین وآسمان کی ہر چیز تہہ وبالا ہوجائے گی۔ زمین پر پہلے آہستہ آہستہ جھٹکے محسوس ہوں گے اور پھر تیز ہوتے جائیں گے حتیٰ کہ سب کچھ تہس نہس ہوجائے گا ، سمندر بھاپ بن کر اڑ جائیں گے ، پہاڑ ذرات کی شکل میں منتشر ہوجائیں گے ، حتیٰ کہ اللہ کے فرشتے بھی سخت گھبراہٹ کے عالم میں ہوں گے۔ اسے الطامۃ الکبریٰ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ خاندانی تعلقات کا انقطاع : فرمایا جب صور پھونکا جائے گا۔ فلا انساب بینھم یومئذ تو اس دن نسبی تعلقات اور خاندانی رشتے ختم ہوجائیں گے۔ لوگ آج جس حسب نسب پر غرور کرتے ہیں اس دن کچھ مفید ثابت نہیں ہوں گے۔ کوئی رشتہ دارکسی رشتے دار کے کام نہیں آئے گا۔ تمام تعلقات منقطع ہوجائیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نسبی تعلقات فی الواقع باقی نہیں رہیں گے بلکہ وہ تو موجود ہوں گے مگر وہ کسی کام نہیں آسکیں گے۔ ولا یتساء لون اور ایک دوسرے سے سوال بھی نہیں کریں گے ، کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوگا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ متذکرہ کیفیت کفار ومشرکین کے متعلق بیان کی گئی ہے ، وگرنہ اہل ایمان کی حالت مختلف ہوگی۔ واقبل……………یتساء لون (الطور 25) وہ تو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے اور سوال و جواب بھی ہوں گے۔ اس آیت اور آیت زیردرس میں کچھ تعارض معلوم ہوتا ہے۔ ایک آیت میں ہے کہ ایک دوسرے سے کوئی سوال جواب نہیں ہوگا۔ جب کہ دوسری آیت میں ہے کہ ایسا ہوسکے گا۔ اس ضمن میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حشر کا دن ذوالوان ہے اور اس میں مختلف کیفیتیں پیش آئیں گی۔ یہ بڑا طویل دن ہوگا جو اس دنیا کی تقویم کے لحاظ سے پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ بعض مواقع ایسے آئیں گے کہ کوئی ایک دوسرے کو نہیں پہچانے گا اور نہ کلام کرسکے گا ، اور بعض مواقع پر جان پہچان بھی ہوگی ، پھر جب جنت میں پہنچ جائیں گے تو مومن کافر سب ایک دوسرے کہ پہچانیں گے ، جہاں تک آپس میں دوستی کا تعلق ہے ، فرمایا الاخلائ……………… …المتقین (الزخرف 67) اس دنیا میں دوستی کا دم بھرنے والے قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے البتہ ان متقین کی دوستی قائم رہے گی ، جنہوں نے دنیا میں اللہ کی رضا کی خاطر دوستی کی تھی۔ حضور ﷺ کا فرمان (تفسیر ابن کثیر ص 256 ج 3 (فیاض) ہے کہ قیامت والے دن تمام سلسلہ نسب ختم ہوجائے گا ، مگر میرے نسب کا سلسلہ قائم رہے گا۔ جو لوگ ایمان دار ہوں گے اور ان کا حضور ﷺ سے نسبی تعلق بھی ہوگا۔ ان کا سبب مفید ثابت ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت علی ؓ کی صاحبزادی ام کلثوم سے نکاح کیا تھا اور ان کے بطن سے آپ کا ایک بچہ بھی پیدا ہوا تھا مگر ماں بیٹا ایک ہی دن فوت ہوگئے تھے۔ اس نکاح کے لئے آپ نے چالیس ہزار درہم حق مہر ادا کیا تھا۔ تو حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بخدا مجھے اس پیرانہ سالی میں نکاح کی کوئی رغبت نہیں۔ میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ میں نے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے کہ قیامت کہ ہر قسم کا نسب ختم ہوجائے گا۔ الا نسبی وصھری سوائے میرے نسب اور سسرال کے کہ یہ سلسلہ قائم رہے گا۔ فرمایا میں نے حضور ﷺ کے ساتھ یہ سلسلہ نسب قائم رکھنے کے لئے نکاح کیا۔ بھاری اور ہلکے اعمال : میدان حشر میں جب جزائے عمل کی باری آئے گی تو سب کے اعمال تولے جائیں گے فمن ثقلت موازینہ پھر جن کے اعمال بھاری نکلیں گے ، فاولئک ھم الفلحون پس یہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے ومن خفت موازینہ اور جن کے اعمال ہلکے ہوں گے۔ فاولئک الذین خسرو انفسھم یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈالا ہے فی جھنم خلدون یہ جہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور وہاں ان کا حال یہ ہوگا تلفح وجوھھم النار ، آگ ان کے چہروں کو جھلس دیگی۔ وھم فیھا کالحون اور وہ اس دوزخ میں نہایت ہی بدشکل ہوجائیں گے ، حدیث شریف (ترمذی ص 371 (فیاض) میں آتا ہے کہ دوزخ کی آگ جب ان کے قریب آئے گی تو آدمی کا اوپر والا ہونٹ نصف پیشانی تک چلا جئاے گا اور نیچے والا ہونٹ ناف تک لٹک جائے گا۔ دانت کھل جائیں گے ، اور اس طرح وہ بدشکل بن جائے گا۔ مجرموں کا اعتراف گناہ : اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے فرمائے گا الم تکن ایتی تتلی علیکم کیا میری آیتیں تمہیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں فکنتم بھا تکذبون پس تم ان کو جھٹلاتے تھے ، تمہیں ایمان کی باتیں سمجھائی جاتی تھیں ، احکام پڑھ کر سنائے جاتے تھے ، دلائل قدرت کا مشاہدہ کرایا جاتا تھا ، مگر تم مانتے ہی نہ تھے اور کہتے تھے کہ خدا نے کوئی کلام نازل نہیں کیا۔ تم رسالت کا انکار کرتے رہے ، وقوع قیامت کا انکار کیا اور اس طرح آیات الٰہی کو جھٹلاتے رہے ، اب دیکھو تمہارا کیا حشر ہورہا ہے ۔ اس وقت وہ لوگ اعتراف گناہ کریں گے قالوا ربنا غلبت علینا شقوتنا کہیں گے ، اے ہمارے پروردگار ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے وکنا قوما ضالین اور ہم یقینا گمراہ لوگ تھے۔ پھر درخواست پیش کریں گے ربنا اخرجنا منھا ، اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ایک دفعہ یہاں سے نکال دے۔ فان عدنا فانا ظلمون ، اگر ہم پلٹ کرنا فرمانی کریں گے تو یقینا ہم سخت گناہ گارہوں گے ، مطلب یہ کہ اب ہم ایمان لائیں گے ، شرک سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور نیک کام انجام دیں گے۔ ادھر سے جواب آئے گا قال اخسئوا فیھا ولا تکلمون ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اسی دوزخ میں ذلیل ہوجائو ، اور میرے ساتھ بات بھی نہ کرو ۔ امام زہری (رح) اور بعض دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ دوزخیوں کی چیخ و پکار اور اللہ کی طرف سے جواب آنے کے درمیان ایک ہزار سال کا وقفہ ہوگا۔ ہزار سال تک چیخنے چلانے کے بعد انہیں یہ جواب ملے گا۔ صاحب ایمان گروہ : یہ تو نافرمانوں کا حال تھا۔ آگے فرمایا انہ کان فریق من عبادی ، میرے بندوں میں ایک گروہ ایسا بھی تھا یقولون ربنا امنا ، جو کہتے تھے اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں۔ تیری توحید اور قیامت کو تسلیم کرلیا ہے فاغفرلنا ، لہٰذا ہماری غلطیاں معاف کردے۔ وارحمنا ، اور ہم پر رحم فرما۔ وانت خیرالرحمین ، کہ تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے ، فرمایا ، میرا یہ گروہ میرا اطاعت گزار تھا اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی طلب کرتا رہتا تھا مگر تم نے اس گروہ کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ فاتخذ تموھم سخریا ، تم نے انہیں ٹھٹا و تمسخر کانشانہ بنایا۔ وہ مادی لحاظ سے کمزور تھے مگر صاحب ایمان تھے۔ تم کو مذاب کرتے رہتے تھے حتی انسوکم ذکری ، یہاں تک کہ انہوں نے تم کو میرے ذکر سے غافل کردیا۔ تم میرا ذکر کرنا ہی بھول گئے۔ صاحب ایمان لوگوں نے ذکر سے کیسے غافل کردیا ، مفسرین اس کی یہ توجیہہ بیان کرتے ہیں کہ منکرین اہل ایمان کو ٹھٹا تمسخر کرنے میں اس قدر منہمک ہوچکے تھے کہ انہیں اللہ کی یاد کے لئے وقت ہی نہیں ملتا ، وکنتم منھم تضحکون اور تم ان کی ہنسی اڑاتے تھے۔ اس مضمون کو سورة المطففین میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ واذا………مزون (آیت 30) جب وہ اہل ایمان کے قریب سے گزرتے تھے تو آنکھوں سے اشارے کرتے تھے۔ ایک دوسرے کو آنکھوں کے اسارے سے کہتے کہ دیکھو یہ جنت کے وارث اور حوروں کے خاوند جا رہے ہیں جن کے پاس نہ پہننے کو کپڑا ، نہ کھانے کو روٹی ، نہ رہنے کو مکان اور نہ سفر کے لئے سواری ہے۔ بہرحال اللہ فرمائے گا کہ تم وہ لوگ ہو جو میرے صاحب ایمان بندوں کو ٹھٹا اور تمسخر کیا کرتے تھے۔ ان کے صبر کی جزا : پھر اللہ فرمائے گا انی جزیتھم الیوم بما صبروا ، بیشک آج کے دن میں ان کو بدلہ دیا ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے تمہاری ایذاء رسانیوں پر صبر کیا۔ اور اس کا پھل یہ ہے انھم ھم الائزون ، بیشک یہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں۔ صبر بہت بڑا اصول ہے جس کا نتیجہ آگے چل کر ظاہر ہوگا۔ ملت ابراہیمیہ کے بڑے بڑے اصولوں میں سے صبر بھی ایک اہم اصول ہے۔ صاحب ایمان لوگوں نے صبر کیا ، تکالیف کو برداشت کیا تو اللہ نے انہیں کامیابی کا مژدہ سنایا۔ اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا حال بھی بیان فرمایا کہ وہ دنیا میں کچھ کرتے رہے ، پھر برزخ میں ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا اور حشر میں ان کی کیا حالت ہوگی۔ اسی طرح اہل ایمان کے اچھے انجام کو بھی بیان فرمادیا۔ زندگی کا قلیل عرصہ : اس دن اللہ تعالیٰ مجرموں سے بھی پوچھے گا۔ قل کم لبثتم فی الارض عدد سنین تم زمین میں کتنے سال تک ٹھہرے۔ دنیا میں رہ کر تو عذاب کے جلدی لانے کا مطالبہ کرتے تھے اور کہتے تھے متی… …………صدقین (الملک 25) یہ وعدہ کب پورا ہوگا ۔ قیامت کب آئیگی۔ اور جزائے عمل کی منزل کب شروع ہوگی ؟ اب ذرا بتلاء کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ رہے جو اس طرح کے مطالبات پیش کرتے تھے۔ ان کا جواب ہوگا۔ قالوا لبثنا یوما او بعض یوم ، کہ ہم دنیا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے۔ اس دنیا کی پج اس ، ستر یا سو سالہ زندگی انہیں ایک دن کے برابر محسوس ہوگی۔ اس میں برزخ کا عرصہ بھی شامل کرلیں تو بھی وہی تصور ہوگا کیونکہ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیا اور برزخ کی زندگی بالکل قلیل معلوم ہوگی۔ فرمایا فاسئل العادین ، اگر تمہیں اپنی دنیوی زندگی کا شمار یاد نہیں تو شمار کنندہ فرشتوں سے پوچھ لو۔ وہ تو تمہارا ایک ایک لمحہ شمار کرتے رہے ہیں۔ اور تمہارے ہر نیک اور بد افعال کا ریکارڈ مرتب کرتے رہے ہیں ان سے پوچھ لو۔ وہ تمہیں ٹھیک ٹھیک بتادینگے کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ رہے۔ ارشاد ہوگا ، حقیقت یہ ہے قل ان لبثتم الا قلیلا تم نے دنیوی اور برزخی زندگی میں بہت تھوڑا عرصہ گزارا ہے لو انکم کنتم تعلمون ، اگر تمہیں کچھ سمجھ بوجھ ہے۔ دنیا کی اتنی قلیل زندگی کو تم نے لہو ولعب ، کفر وشرک اور نافرمانی میں ضائع کریدا فما ربحت تجارتھم (البقرہ 16) اس تجارت نے تمہیں کچھ نفع نہ دیا۔ تمہیں اس عرصہ میں ایمان اور اچھے اخلاف کو نہ خریدا۔ اور زندگی کی اس قلیل پونجی کو ضائع کردیا۔ اس زندگی کی مثال برف کی ڈلی کی ہے ۔ جس پر اوپر بھادوں کی تپش ہو۔ جس طرح یہ برف جلدی پگھل جائیگی اسی طرح تمہاری زندگی بھی جلدی ختم ہونے والی ہے ، لہٰذا اس کا صحیح استعمال کرکے آخرت میں اپنا مقام پیدا کرلو ، ورنہ آگے خالی ہاتھ جانا پڑے گا۔
Top