Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 125
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ
فَاِذَا : پھر جب نُفِخَ : پھونکا جائے گا فِي الصُّوْرِ : صور میں فَلَآ اَنْسَابَ : تو نہ رشتے بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان يَوْمَئِذٍ : اس دن وَّلَا يَتَسَآءَلُوْنَ : اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے
پھر جب وہ گھڑی آجائے گی کہ نرسنگا پھونکا جائے تو اس دن نہ تو ان لوگوں کی باہمی رشتہ داریاں باقی رہیں گی ، نہ کوئی ایک دوسرے کی بات ہی پوچھے گا
جب ” الصور “ پھونکا جائے گا تو اس وقت حسب ونسب کام نہیں دے گا : 101۔ قرآن کریم میں (الصور) کے پھونکے جانے کا ذکر تقریبا دس بار آیا ہے اور سب سے پہلے سورة الانعام کی آیت 73 میں یہ لفظ استعمال ہوا اور اس جگہ ہم نے وضاحت کردی ہے پھر سورة الکہف کی آیت 99 ‘ سورة طہ کی آیت 102 ‘ سورة المومنون کی زیر نظر آیت میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ ” صور “ کے لفظی معنی نرسنگھا اور ” قرنا “ کے ہیں۔ اس کی اصل اس طرح ہے کہ قدیم الایام میں بابلیوں ‘ کنعانیوں ‘ آرامیوں اور عبرانیوں وغیرہ تمام پرانی قوموں میں بادشاہی جلال وجلوس اور اعلان جنگ کے موقعوں پر نرسنگھا پھونکا جاتا تھا اس لئے گویا نرسنگھا پھونکنے کے معنی شاہی جلال کا اظہار غیر معمولی خطرہ کا اعلان سمجھا جاتا تھا اور انہی معنوں میں قرآن کریم نے (الصور) کا لفظ استعمال کیا ہے اور (نفخ صور) کا ذکر قرآن کریم میں تین چار بار آیا ہے اور مقصود اس سے ایک حالت سے دوسری حالت وکیفیت میں بدلنے کی اطلاع کے ہیں اس کی جو صورت بھی اختیار کی جائے گی وہی اس سے مراد ہے ۔
Top