Tafseer-e-Usmani - Al-Qasas : 75
وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ
وَقِيْلَ : اور کہا جائے گا ادْعُوْا : تم پکارو شُرَكَآءَكُمْ : اپنے شریکوں کو فَدَعَوْهُمْ : سو وہ انہیں پکاریں گے فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا : تو وہ جواب نہ دیں گے لَهُمْ : انہیں وَرَاَوُا : اور وہ دیکھیں گے الْعَذَابَ : عذاب لَوْ اَنَّهُمْ : کاش وہ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ : وہ ہدایت یافتہ ہوتے
جدا کریں گے ہم ہر فرقہ میں سے ایک احوال بتلانے والاف 5 پھر کہیں گے لاؤ اپنی سند6  تب جان لیں گے کہ سچ بات ہے اللہ کی اور کھوئی جائیں گی ان سے جو باتیں وہ جوڑتے تھے7
5 احوال بتلانے والا پیغمبر یا ان کے نائب جو نیک بخت تھے۔ (موضح) وہ بتلائیں گے کہ لوگوں نے شرائع سماویہ اور احکام الٰہیہ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا۔ 6  یعنی خدا تعالیٰ کے شریک کس سند اور دلیل سے ٹھہرائے اور حلال و حرام وغیرہ کے احکام کس مأخذ صحیح سے لیے تھے۔ پیغمبروں کو تو تم نے مانا نہیں، پھر کس نے بتلایا کہ خدا کا یہ حکم ہے، یہ نہیں۔ 7 یعنی اس وقت نظر آجائے گا کہ سچی بات اللہ کی ہے۔ اور معبودیت صرف اسی کا حق ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ دنیا میں پیغمبر جو بتلاتے تھے وہ ہی ٹھیک ہے۔ مشرکین نے جو عقیدے گھڑ رکھے تھے اور جو باتیں اپنے دل سے جوڑی تھیں اس روز سب کافور ہوجائیں گی۔
Top