Al-Qurtubi - An-Nahl : 58
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ
وَاِذَا : اور جب بُشِّرَ : خوشخبری دی جائے اَحَدُهُمْ : ان میں سے کسی کو بِالْاُنْثٰى : لڑکی کی ظَلَّ : ہوجاتا (پڑجاتا) ہے وَجْهُهٗ : اس کا چہرہ مُسْوَدًّا : سیاہ وَّهُوَ : اور وہ كَظِيْمٌ : غصہ سے بھر جاتا ہے
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑجاتا ہے اور اس کے دل کو دیکھو تو وہ اندوزناک ہوجاتا ہے
آیت نمبر 58 قولہ تعالیٰ : واذا بشر احدھم بالانثی یعنی جب ان میں سے کسی کو بچی کی ولادت کی خبر دی جاتی ہے۔ ظلل وجھہ مسودا تو اس کا چہرہ متغیر ہوجاتا ہے، اور یہاں سواد (سیاہی) سے مراد وہ نہیں ہے جو بیاض (سفیدی) کی ضد ہے، بلکہ یہ اس کی بچی کے سبب غمزدہ اور پریشان ہونے سے کنایہ ہے۔ اور ہر وہ آدمی جسے کوئی مکروہ اور ناپسندیدہ شے لاحق ہو اس کے لئے عرب کہتے ہیں : قد اسود وجھہ غما وحزنا۔ (تحقیق اس کا چہرہ غم اور پریشانی کے سبب سیاہ ہوگیا) ؛ یہ زجاج نے کہا ہے۔ اور ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مراد رنگ کا سیاہ ہونا ہی ہے، فرمایا : یہی جمہور کا قول ہے۔ وھو کظیم اور وہ غم اور رنج سے بھر جاتا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی حزین (غمزدہ، پریشان حال) ہے۔ اور اخفش نے کہا ہے : یہ وہ ہے جو اپنا غصہ پی جاتا ہے اور اسے ظاہر نہیں کرتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ وہ مغموم اور پریشان حال آدمی ہے جو اپنا منہ بند کرلیتا ہے اور غم کی وجہ سے کلام نہیں کرتا، یہ الکظامۃ سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی مشکیرے کا منہ بند کرنا ہے ؛ یہ علی بن عیسیٰ نے کہا ہے۔ اور یہ معنی سورة یوسف میں گزر چکا ہے۔
Top