Al-Qurtubi - Al-Haaqqa : 38
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ
فَلَآ اُقْسِمُ : پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں بِمَا تُبْصِرُوْنَ : ساتھ اس کے جو تم دیکھتے ہو
تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں
فلا اقسم بما تبصرون۔ ومالا تبصرون۔ معنی ہے میں تمام اشیاء کی قسم اٹھاتا ہوں جنہیں تم دیکھتے ہو اور جنہیں تم نہیں دیکھتے اور زائد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے ساتھ سابقہ کلام کا رد کیا یا ہے (1) یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح مشرک کہتے ہیں : مقاتل نے کہا : اس کا سبب یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے کہا، بیشک حضرت محمد ﷺ جادوگر ہیں (2) ابوجہل نے کہا : وہ شاعر ہیں۔ عقب نے کہا : وہ کا ہغن ہیں۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فلا اقسم یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہاں لا قسم کی نفی کے لئے ہے کیونکہ حق واضح ہے اس لئے قسم اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس تعبیر کی بنا پر اس کا جواب جواب قسم کی طرح ہے انہ لقول رسول کریم ضمیر سے مراد قرآن ہے (3) رسول کریم ﷺ سے مراد حضر جبریل امین ہیں (4) یہ حضرت حسن بصری کلبی اور مقاتل کا قول ہے اس کی دلیل انہ لقول رسول کریم۔ ذی قوۃ عند ذی العرش (الکتویر) ہے کلبی اور قتبی نے کہا : یہاں رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ (5) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما ھو بقول شاعر قرآن رسول اللہ ﷺ کا قول نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (6) قول کی نسبت رسول کی طرف اس لئے کہ آپ اس کی تلاوت کرنے والے، اس کی تبلیغ کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں جس طرح ہمارا قول ہے، یہ امام مالک کا قول ہے۔
Top