Ruh-ul-Quran - Al-Insaan : 9
اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا
اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں نُطْعِمُكُمْ : ہم تمہیں کھلاتے ہیں لِوَجْهِ اللّٰهِ : رضائے الہی کیلئے لَا نُرِيْدُ : ہم نہیں چاہتے مِنْكُمْ : تم سے جَزَآءً : کوئی جزا وَّلَا شُكُوْرًا : اور نہ شکریہ
بلاشبہ ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیں اور نہ شکریہ کے
اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لاَ نُرِیْدُمِنْـکُمْ جَزَآئً وَّلاَ شُکُوْرًا۔ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا۔ (الدہر : 9، 10) (بلاشبہ ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیں اور نہ شکریہ کے۔ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے جو نہایت عبوس اور سخت ترشرو ہوگا۔ ) ابرار ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب آیت کے الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جب کسی کو کھانا کھلاتے ہیں یعنی کسی ضرورت میں اس کی مدد کرتے ہیں تو اسے کہہ دیتے ہیں کہ ہم محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ایسا کررہے ہیں، تم سے کسی بدلے یا شکریئے کا مطالبہ نہیں کرتے۔ اگر اس کا یہ ظاہری معنی مراد لیا جائے تو جب بھی کوئی حرج نہیں، کیونکہ جب کوئی شخص کسی پر کوئی احسان کرتا ہے تو احسان لینے والا برابر اس خیال کی گرفت میں رہتا ہے کہ یہ شخص کبھی نہ کبھی اپنا احسان جتلا کر مجھے شرمندہ کرے گا، یا وہ اس تصور سے پریشان ہوتا رہتا ہے کہ میں کس طرح اس کے احسان کا بدلہ اتار سکوں گا۔ اس لیے ایسے موقع پر اگر یہ وضاحت کردی جائے کہ میں محض اللہ تعالیٰ کے لیے یہ احسان کررہا ہوں تو اس سے ممنونِ احسان آدمی کی عزت نفس کو بہت تقویت ملے گی۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا یہ مفہوم لیا جائے کہ دینے والا زبان سے تو کچھ نہ کہے، لیکن اس کے دل میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ میں جس شخص پر احسان کررہا ہوں میں کبھی بھی اس سے اس کے بدلے یا شکرگزاری کا تقاضا نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ کام میں نے سراسر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کیا ہے تو میرے اس احساس میں کوئی دوسرا احساس شامل نہیں ہونا چاہیے۔ یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا … عَبُوْس کے معنی ترشرو اور روکھے پھیکے کے ہیں۔ قَمْطَرِیْرکا معنی ہے، اکھڑ، اکل کھرا اور ترش مزاج۔ یہ دونوں لفظ یوم کی صفت کے طور پر آئے ہیں۔ اور یوم سے مراد یوم آخرت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے یہ سوچ کر ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا سہارا لیتے ہیں کہ ہمیں قیامت میں ایک ایسے دن سے واسطہ پڑنے والا ہے جو ایسا روکھا پھیکا، اکل کھرا اور ترش مزاج ہوگا کہ اس میں کوئی بھی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اس دن سابقہ ہر ایک کو اپنے اعمال سے پیش آئے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف انھیں لوگوں پر مہربان ہوگی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں ناداروں اور ضرورتمندوں کی سرپرستی کی ہوگی اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دی ہوگی۔
Top