Anwar-ul-Bayan - Al-Insaan : 9
اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا
اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں نُطْعِمُكُمْ : ہم تمہیں کھلاتے ہیں لِوَجْهِ اللّٰهِ : رضائے الہی کیلئے لَا نُرِيْدُ : ہم نہیں چاہتے مِنْكُمْ : تم سے جَزَآءً : کوئی جزا وَّلَا شُكُوْرًا : اور نہ شکریہ
ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں ہم تم سے کوئی بدلہ یا شکریہ نہیں چاہتے،
نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے مزید فرمایا ﴿ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا 009﴾ یہ حضرات جو ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں کوئی احسان نہیں دھرتے اور انہیں بتا دیتے ہیں کہ آپ لوگ بےتکلف کھائیں ہماری طرف سے نہ کسی عوض کا مطالبہ ہے اور نہ کسی شکریہ کا ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی امید ہے ہم صرف اسی کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی مخلوق میں سے جب کسی پر خرچ کیا جائے تو صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہونی چاہیے نہ نام آوری مقصود ہو نہ کسی عوض کی طلب ہو۔ حد یہ ہے کہ دل میں یہ بھی نہ ہو کہ جس پر خرچ کیا ہے وہ مرا شکریہ ادا کرے، جاہ اور مال کی ذرا سی بھی طلب ہوگی تو اخلاص میں فرق آجائے گا۔ بہت سے لوگ کسی ضرورت مند پر خاص کر اپنے عزیزوں پر مال خرچ کردیتے ہیں پھر کسی موقع پر احسان جتا دیتے ہیں اور یوں کہنے لگتے ہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے وہ تو ایسا نکلا کہ اس نے پھوٹے منہ سے جزاک اللہ بھی نہ کہا ایسا کہہ کر سب ڈبو دیا، جس کے ساتھ احسان کیا تھا اسے تو چاہیے کہ شکریہ بھی ادا کرے اور دعائیں بھی دے۔ نیز لوگوں کو بتائے بھی کہ فلاں نے میرے ساتھ سلوک کیا ہے لیکن دینے والا اور خرچ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرے۔ حدیث شریف میں احسان جتانے کے لیے بڑی وعید آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ بات نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ راوی حدیث حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا کہ ان کا برا ہو نقصان میں پڑیں یا رسول اللہ ﷺ یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : (1) اپنے تہمد کو نیچے لٹکا کر چلنے والا۔ (2) احسان جتانے والا۔ (3) اپنے بکری کے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعے چالو کرنے والا۔ (رواہ مسلم)
Top