Siraj-ul-Bayan - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اور تو کہہ اے رب میں شیطانوں کی چھیڑ سے تیری پناہ مانگتا ہوں (ف 1) ۔
ہمزاد شیاطین : (ف 1) قرآن حکیم کا یہ انداز بیان ہے کہ وہ بعض اوقات کچھ احکام واوامر بیان کرتا ہے اور مقصود ان سے یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے ہے کہ حضور ﷺ ان احکام واوامر پر عمل پیرا ہیں ، اس لئے ان کے ماننے والے بھی ان کی پیروی کریں اور جو لوگ کہ اس اسلوب خاص سے آگاہ نہیں ہوتے ، وہ سمجھتے ہیں کہ شاید حضور ﷺ ان باتوں سے مطلع اور متصف نہیں ، اس لئے حکم دیا جا رہا ہے ، کہ ان سے انصاف پیدا کیجئے ، بہ غلط اور محض غلط ہے اور سراسر قرآن نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے ، چناچہ کوتاہ عقل مشتنریوں اور نافہم آریہ سماجی مبلغوں نے اس نوع کی آیات سے ناجائز استثناء کیا ہے اور کہا ہے ، معاذ اللہ حضور ﷺ کا دل و دماغ وس اس سے پاک نہ تھا ، اصل میں اس قسم کا طرز تخاطب اس لئے اختیار کیا گیا کہ یہ ستایا جائے کہ خدا سے براہ راست تعلقات رشد وہدایت استوار نہیں ہو سکتے ، جب تک کہ حضور ﷺ کو وسیط (میڈیم) یعنی میانہ و برگزیدہ فرار دیا جائے ، اور آپ کی باتوں پر اعتماد نہ کیا جائے ، ظاہر ہے کہ آپ کی ساری زندگی پاکبازی اور عفاف وعصمت کے روشن نمونوں سے معمور ہے ، ان بدباطن لوگوں کو چاہئے ، کہ ان آیات کے ساتھ اس آیت کبری کی سیرت کو بھی اپنے سامنے رکھیں اور پھر فرمان سمجھنے کی کوشش کریں ۔ آج سے چند سال قبل تو جنات اور ان کے اختیارات امتیازی کا انکار لکھا جاتا تھا ، مگر جدید تحقیق سے ثابت ہوگیا کہ بعض خبیث روحیں یا شیاطین ایسے ہوتے ہیں جو دل و دماغ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، یوں سمجھ لیجئے ، جس طرح جراثیم بدن میں بیماری اور مرض پیدا کرنے کا باعث ہوتے ہیں ، اسی طرح یہ روحی جراثیم ، روحانی امراض پیدا کرنے کا موجب ہوتے ہیں ۔
Top