Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
کیا ان کے کچھ شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے وہ دین ٹھہرایا ہے جس کا اذن اللہ نے نہیں دیاڈ اور اگر فیصلہ کی مدت طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک ان ظالموں کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے
-4 آگے کا مضمون آیات :36-21 اوپر کے پیرے میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ تمام نبیوں اور رسولوں نے اسی دین توحید کی تعلیم دی ہے جس کی تعلیم یہ پیغمبر (محمد ﷺ دے رہے ہیں۔ اب آگے یہ واضح فرمایا جا رہا ہے کہ اگر ان مشرکین کی مزعومہ شرکاء نے ان کے لئے کوئی الگ دین ایجاد کیا ہے تو یہ دنیا خدا کے ہاں کام آنے والا نہیں ہے۔ جزائے اعمال کے دن یہ لوگ اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے۔ اس دن کی کامیابی صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کر کے اس دن کے لئے کچھ کمائی کرلیں گے۔ اس کے بعد مخلافین کے تین اعتراضوں کے علی الترتیب جواب دیئے ہیں۔ ایک اس اعتراض کا کہ اس جوش و گرمی کے ساتھ یہ (محمد ﷺ جو دعوت دے رہے ہیں تو اس لئے نہیں کہ ہمارے بہبود ان کو عزیز ہے بلکہ اس میں سراسر ان کی اپنی غرض پوشیدہ ہے۔ دوسرے اس کا کہ جو کلام یہ پیش کر رہے ہیں یہ ہے تو تمام تر ان کا اپنا من گھڑت لیکن اپنا رعب جمانے کے لئے یہ اس کو خدا سے منسوب کر رہے ہیں۔ تیسرے اس کا کہ اگر ہم اپنی گمراہی پر سزا کے مستحق ہیں تو ہمارے حالات ان کے اور ان کے ساتھیوں کے حالات سے بہتر کیوں ہیں اور جس عذاب سے یہ ہم کو ڈرا رہے ہیں وہ آکیوں نہیں جاتا ؟ … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ام لھم شرکوآ لھم من الدین مالم یاذن بہ اللہ ولو لاکلمۃ الفصل لقضی بینھم وان الظلمین لھم عذاب الیم (21) یہ دین شرک کہ ان سے آ نکلا ! ام یہاں استنکار واستعجاب کے مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا دین، جو اس نے اپنے تمام نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے بھجیا، وہ تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوا تو یہ نیا دنی کہاں سے آ دھمکا ! کیا ان کے کچھ شرکاء ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایک ایسا دین گھڑ دیا جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ یعنی ال لہ کی منظویر کے بد دن تو کوئی دین اللہ کا دین نہیں ہو سکتا تو یہ دین کہاں سے آیا ؟ اگر ان کے کچھ شرکاء ہیں تو اللہ کا تو کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ محض ان کا وہم ہے۔ ربولا کلمۃ الفصل لقضی بینھم یہ مضمون اوپر آیت 14 میں بھی گزر چکا ہے یہ ان کو دھمکی ہے کہ اگر اللہ نے ان کے فیصلہ کے لئے ایک وقت نہ مقرر کرلیا ہوتا تو ان کا قصہ اسی دنیا میں ابھی پاک کردیا جاتا۔ پس ان کو جو مہلت ملی ہوئی ہے اس سے مغرور نہ ہوں بلکہ اللہ کے شکر گزار ہوں کہ وہ ان کے پکڑنے میں جلدی نہیں کر ہرا ہے۔ اگر انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا تو یاد رکھیں کہ اس طرح کے ظالموں کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے۔ ظالمین سے مراد یہاں یہی مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو چھوڑ کر ایک نیا دنی شرک ایجاد کیا اور اس طرح خود اپنے ہاتھوں اپنی جانور پر ظلم ڈھانے والے بنے۔
Top