Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 3
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ : بنائے سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمان طِبَاقًا : اوپر تلے۔ تہ بہ تہ مَا تَرٰى : نہ تم دیکھو گے فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کی تخلیق میں مِنْ تَفٰوُتٍ : کوئی نقص۔ کجی۔ خلل فَارْجِعِ الْبَصَرَ : پھر لوٹاؤ نگاہ کو هَلْ تَرٰى : کیا تم دیکھتے ہو مِنْ فُطُوْرٍ : کوئی شگاف۔ کوئی رخنہ
س نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے۔ 6 تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاوٴ گے۔ 7 پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ 8
سورة الْمُلْک 6 تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 34۔ جلد دوم، الرعد، حاشیہ 2۔ الحجر، حاشیہ 8۔ جلد سوم، الحج، حاشیہ 113۔ المومنون، حاشیہ 15۔ جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 5، المومن، حاشیہ 90۔ سورة الْمُلْک 7 اصل میں تفاوت کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں، عدم تناسب۔ ایک چیز کا دوسری چیز سے میل نہ کھانا۔ انمل بےجوڑ ہونا۔ پس اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں تم کہیں بد نظمی، بےترتیبی اور بےربطی نہ پاؤ گے۔ اللہ کی پیدا کردہ اس دنیا میں کوئی چیز انمل بےجوڑ نہیں ہے۔ اس کے تمام اجزاء باہم مربوط ہیں اور ان میں کمال درجے کا تناسب پایا جاتا ہے۔ سورة الْمُلْک 8 اصل میں لفظ فطور استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں دراڑ، شگاف، رخنہ، پھٹا ہوا ہونا، ٹوٹا پھوٹا ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات کی بندش ایسی چست ہے، اور زمین کے ایک ذرے سے لے کر عظیم الشان کہکشانوں تک ہر چیز ایسی مربوط ہے کہ کہیں نظم کائنات کا تسلسل نہیں ٹوٹتا۔ تم خواہ کتنی ہی جستجو کرلو، تمہیں اس میں کسی جگہ کوئی رخنہ نہیں مل سکتا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة ق، حاشیہ 8۔
Top