Dure-Mansoor - Al-Mulk : 3
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ : بنائے سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمان طِبَاقًا : اوپر تلے۔ تہ بہ تہ مَا تَرٰى : نہ تم دیکھو گے فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کی تخلیق میں مِنْ تَفٰوُتٍ : کوئی نقص۔ کجی۔ خلل فَارْجِعِ الْبَصَرَ : پھر لوٹاؤ نگاہ کو هَلْ تَرٰى : کیا تم دیکھتے ہو مِنْ فُطُوْرٍ : کوئی شگاف۔ کوئی رخنہ
جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو تہہ بہ تہ، اے مخاطب ! تو رحمان کی تخلیق میں کوئی خلل نہیں دیکھے گا، سو تو پھر نظر ڈال کر دیکھے لے کیا تجھے کوئی خلل نظر آتا ہے
25۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سبع سموت طباقا اوپر تلے سات آسمان۔ یعنی اس کا بعض، بعض کے اوپر ہے۔ 26۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 27۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت تو نہیں دیکھے گا رحمن کی پیدائش میں کوئی خلل یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیفق باہم متفاوت نہیں یعنی جدا جدا کرنے والا۔ 28 عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت میں تفاوت کا معنی ہے اختلاف آیت فارجع البصر ہل تری من فطور تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے یعنی کوئی خلل نظر آتا ہے آیت ثم ارجع البص کر تین ینقلب الیک البصر خاسئا۔ پھر دوبارہ نگاہ کر تیری طرف نگاہ ناکام لوٹ آئے گی یعنی ذلیل ہو کر۔ آیت وہو حسیر اور اور وہ تھکی ہوئی ہوگی یعنی تو نہیں دیکھے گا رحمن کی پیدائش میں نہ کوئی پھٹن اور نہ کوئی خلل۔ 29۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ماتری فی خلق الرحمن من تفاوت۔ 30۔ سعید بن منصور نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت۔ 31۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من تفٰوت سے مراد ہے پھٹن۔ آیت ہل تری من فطور۔ یعنی شگاف۔ آیت خاسئا۔ یعنی ذلیل ہو کر وہو حسیر سے مراد ہے تھکی ماندی۔ 32۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فطور “ سے مراد ہے بوسیدہ اور کمزور۔ 33۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” من فطور “ سے مراد ہے خلل میں سے۔ 34۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” من فطور “ سے مراد ہے پھٹن یا خلل اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت ینقلب الیک البصر خاسئا سے مراد ہے کہ وہ لوٹے گی تیری طرف طرف خاسئا یعنی ذلیل ہو کر آیت وہو حسیر یعنی وہ تھک جائے گی اور کسی چیز کو نہیں دیکھ سکے گی۔ 35۔ ابن جریر وابن المنذر نے ان عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت خاسئا سے مراد ہے ذلیل وہو حسیر اور وہ واپس لوٹ آئے گی۔
Top