Al-Quran-al-Kareem - Al-Mulk : 3
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ : بنائے سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمان طِبَاقًا : اوپر تلے۔ تہ بہ تہ مَا تَرٰى : نہ تم دیکھو گے فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کی تخلیق میں مِنْ تَفٰوُتٍ : کوئی نقص۔ کجی۔ خلل فَارْجِعِ الْبَصَرَ : پھر لوٹاؤ نگاہ کو هَلْ تَرٰى : کیا تم دیکھتے ہو مِنْ فُطُوْرٍ : کوئی شگاف۔ کوئی رخنہ
وہ جس نے سات آسمان اوپر نیچے پیدا فرمائے۔ رحمان کے پیدا کیے ہوئے میں تو کوئی کمی بیشی نہیں دیکھے گا۔ پس نگاہ کو لوٹا، کیا تجھے کوئی کٹی پھٹی جگہ نظر آتی ہے ؟
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا :”طباقاً“ یعنی تہ بہ تہ اوپر نیچے بنایا ، یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ حدیث معراج سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر آسمان ایک دوسرے سے جدا ہے ، چناچہ ہر آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات کسی نہ کسی رسول سے ہوئی۔ (دیکھئے بخاری ، الصلاۃ باب ، کیف فرضت الصلاۃ فی الاسراء 349) 2۔ مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ : رحمان کے (آسمانوں کو) پیدا کرنے میں تم کوئی تفاوت نہیں دیکھو گے۔ جب تم آسمانوں جیسی عظیم الشان مخلوق میں کوئی تفاوت نہیں نکال سکتے تو دوسری مخلوق جو اس سے کہیں چھوٹی ہے ، اس میں تم کس طرح تفاوت نکال سکو گے ؟”تقوت“ کا معنی ہے کہ تم اتنے بڑے آسمان یا کسی بھی مخلوق کی کوئی چیز دوسری چیز سے بےجوڑ یا بےترتیب نہیں پاؤ گے ، بلکہ سب میں ایک توازن و ترتیب اور یکسانی پاؤ گے ، جس سے معلوم ہوگا کہ یہ ایک ہی خالق کی پیدا کی ہوئی ہیں۔”من تقوت“ کا ایک مطلب یہ ہے کہ تم کسی چیز میں کوئی عیب یا کمی نہیں پاؤ گے کہ کہہ سکو کہ اگر اس طرح ہوتا تو بہتر تھا۔ (قاموس) ”خلق الرحمن“ کے لفظ سے توجہ دلائی کہ اتنے عظیم الشان آسمان اور دوسری ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کا نتیجہ ہے۔ 3۔ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ”فطور“ ”فطر“ کی جمع ہے ، جیسے ”فلس“ کی جمع ”فلوس“ ہے ، پھٹی ہوئی جگہ ، دراڑ ، شگاف ، یعنی پہلی دفعہ اگر تمہیں رحمان کے پیدا کیے ہوئے آسمان میں کوئی عیب یا کمی بیشی نظر نہیں آئی تو دوبارہ نظر دوڑا کر دیکھ لو ، کیا کوئی دراڑیں یا کٹی پھٹی ہوئی جگہیں نظر آتی ہیں ؟ مطلب یہ کہ پوری کائنات میں ذروں سے لے کر آسمانوں تک اور ستاروں سے لے کر بڑی بڑ کہکشاؤں تک ہر چیز مستحکم اور مربوط ہے ، جتنا چاہو تلاش کرلو تمہیں ایک رخنہ بھی نہیں ملے گا۔
Top