Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار
اگر اللہ چاہتا تو سب کے سب انسانوں کو ایک ہی جماعت بنا سکتا تھا 8 ؎ جس طرح دنیا میں جتنے حیوانات پیدا کیے گئے ہیں ان میں سے ہر جنس حیوان کو ایک امت بنایا ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ؎ کند جنس باہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز باباز اس طرح اگر اس کی مشیت کا فیصلہ اسی طرح ہوتا تو وہ سارے انسانوں کو بھی ایک جماعت بنا دیتا اور وہ مجبور محض ہوتے کہ جس طرح دنیا کے حیوانوں کی تمام امتیں مجبور محض ہیں اور وہ صرف اور صرف ایک ہی امت ہیں گویا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو انسانوں کو بھی ارادہ کی آزادی اور اختیار نہ دیتا جس طرح دوسری مخلوقات بےچون و چرا اس کے احکام کی تعمیل کر رہی ہیں اسی طرح انسان بھی اس کے احکام کے سامنے سرافگندہ رہتا لیکن مشیت الٰہی کا فیصلہ یہ نہ ہوا بلکہ اس نے چاہا کہ اس کی تخلیق کا یہ شاہکار ایک حد تک عمل کی آزادی سے فائدہ اٹھائے اور اس بنا پر اس کو مکلف قرار دیا گیا۔ اب وہ بلاشبہ گدھے اور بیل کی طرح بےارادہ اور بےاختیار نہیں ہے بلکہ اس کو ایک حد تک ارادہ اور اختیار دیا گیا ہے اور اب وہ گمراہ ہوتا ہے تو اپنے اختیار سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق کام کرتا ہے تو اپنی مرضی سے اس لیے ان میں سے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی رضا حاصل کریں گے اور جو شیطانکے چیلے بننا چاہیں گے ان کو بھی اس کے چیلے ہونے سے بزور نہیں ہٹایا جائے گا بلکہ سب کو ایک ہی طرح کی عملی آزادی دی جائے گی اس طرح جو بچنا چاہیں گے ان کو یقینا بچایا جائے گا لیکن جو خود غلط راہ پر گامزن ہوں گے ان کے سامنے وہی راہ آسان کردی جائے گی لیکن ظالموں کے لیے کوئی مددگار اور دوست ایسا نہیں ہوگا جو ان کے اعمال کے نتائج سے ان کو دوچار نہ ہونے دے یا ان کی سفارش کر کے ان کو بچوا لے۔ ہاں ! جب سیدھی راہ چلنے والوں کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا تو وہاں غلط راہ چلنے والوں کو بھی ان کے کیے کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ یہ مضمون قرآن کریم میں جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے اگر مزید وضاحت چاہتے ہو تو عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس کی آیت 99 ، جلد ہفتم سورة السجدہ کی آیت 13 ، پھر مزید وضاحت سورة الدھر کی آیت 31 , 29 میں آئے گی ، انشاء اللہ۔
Top