Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مسخر بنادیا سو تم اس کے راستوں میں چلو اور اس کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مناکبہ سے مراد ہے زمین کے پہاڑ۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مناکبہا سے مراد ہے زمین کے اطراف۔ 3۔ ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ بشیر بن کعب (رح) نے یہ آیت پڑھی آیت فامشوا فی مناکبہا چلو تم اس کے اطراف میں۔ اور اپنی باندی سے فرمایا اگر تو یہ بتادے کہ زمین کے مناکب کیا ہیں پھر تو اللہ کے لیے آزاد ہے اس نے کہا زمین کے مناکب اس کے پہاڑ ہیں پھر انہوں نے ابودرداء ؓ نے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر ایسی چیز کو اختیار کر جو تجھے شک میں نہ ڈالے۔ 4۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مناکبہا سے مراد ہے زمین کے اطراف اور اس کے پہاڑی راستے۔
Top