Tafseer-e-Usmani - Al-Muminoon : 24
فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ
فَقَالَ : تو وہ بولے الْمَلَؤُا : سردار الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جنہوں نے کفر کیا مِنْ : سے۔ کے قَوْمِهٖ : اس کی قوم مَا ھٰذَآ : یہ نہیں اِلَّا : مگر بَشَرٌ : ایک بشر مِّثْلُكُمْ : تم جیسا يُرِيْدُ : وہ چاہتا ہے اَنْ يَّتَفَضَّلَ : کہ بڑا بن بیٹھے وہ عَلَيْكُمْ : تم پر وَلَوْ : اور اگر شَآءَ اللّٰهُ : اللہ چاہتا لَاَنْزَلَ : تو اتارتا مَلٰٓئِكَةً : فرشتے مَّا سَمِعْنَا : نہیں سنا ہم نے بِھٰذَا : یہ فِيْٓ اٰبَآئِنَا : اپنے باپ داد سے الْاَوَّلِيْنَ : پہلے
تب بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم میں یہ کیا ہے آدمی ہے جیسے تم1 چاہتا ہے کہ بڑائی کرے تم پر اور اگر اللہ چاہتا تو اتارتا فرشتے2 ہم نے یہ نہیں سنا اپنے اگلے باپ دادوں میں3
1 یعنی اس میں اور تم میں فرق کیا ہے جو یہ رسول بن جائے تم نہ بنو۔ 2 یعنی بڑا بن کر رہنا چاہتا ہے اس لیے یہ سب ڈھونگ بنایا ہے۔ ورنہ خدا کسی کو رسول بنا کر بھیجتا تو کیا یہ ہی اس کام کے لیے رہ گیا تھا۔ 3 یعنی ہم نے ایسی عجیب بات کبھی نہیں سنی کہ ایک ہماری طرح کا معمولی آدمی خدا کا رسول بن جائے اور تمام دیوتاؤں کو ہٹا کر تنہا ایک خدا کی حکومت منوانے لگے۔
Top