Mafhoom-ul-Quran - An-Nisaa : 13
وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ
وَلَكُمْ : اور تمہارے لیے نِصْفُ : آدھا مَا تَرَكَ : جو چھوڑ مریں اَزْوَاجُكُمْ : تمہاری بیبیاں اِنْ : اگر لَّمْ يَكُنْ : نہ ہو لَّھُنَّ : ان کی وَلَدٌ : کچھ اولاد فَاِنْ : پھر اگر كَانَ : ہو لَھُنَّ وَلَدٌ : ان کی اولاد فَلَكُمُ : تو تمہارے لیے الرُّبُعُ : چوتھائی مِمَّا تَرَكْنَ : اس میں سے جو وہ چھوڑیں مِنْۢ بَعْدِ : بعد وَصِيَّةٍ : وصیت يُّوْصِيْنَ : وہ وصیت کرجائیں بِھَآ : اس کی اَوْ دَيْنٍ : یا قرض وَلَھُنَّ : اور ان کے لیے الرُّبُعُ : چوتھائی مِمَّا : اس میں سے جو تَرَكْتُمْ : تم چھوڑ جاؤ اِنْ : اگر لَّمْ يَكُنْ : نہ ہو لَّكُمْ وَلَدٌ : تمہاری اولاد فَاِنْ : پھر اگر كَانَ لَكُمْ : ہو تمہاری وَلَدٌ : اولاد فَلَھُنَّ : تو ان کے لیے الثُّمُنُ : آٹھواں مِمَّا تَرَكْتُمْ : اس سے جو تم چھوڑ جاؤ مِّنْۢ بَعْدِ : بعد وَصِيَّةٍ : وصیت تُوْصُوْنَ : تم وصیت کرو بِھَآ : اس کی اَوْ : یا دَيْنٍ : قرض وَاِنْ : اور اگر كَانَ : ہو رَجُلٌ : ایسا مرد يُّوْرَثُ : میراث ہو كَلٰلَةً : جس کا باپ بیٹا نہ ہو اَوِ امْرَاَةٌ : یا عورت وَّلَهٗٓ : اور اس اَخٌ : بھائی اَوْ اُخْتٌ : یا بہن فَلِكُلِّ : تو تمام کے لیے وَاحِدٍ مِّنْهُمَا : ان میں سے ہر ایک السُّدُسُ : چھٹا فَاِنْ : پرھ اگر كَانُوْٓا : ہوں اَكْثَرَ : زیادہ مِنْ ذٰلِكَ : اس سے (ایک سے) فَھُمْ : تو وہ سب شُرَكَآءُ : شریک فِي الثُّلُثِ : تہائی میں (1/3) مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد وَصِيَّةٍ : وصیت يُّوْصٰى بِھَآ : جس کی وصیت کی جائے اَوْ دَيْنٍ : یا قرض غَيْرَ مُضَآرٍّ : نقصان نہ پہنچانا وَصِيَّةً : حکم مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے وَاللّٰهُ : اور اللہ عَلِيْمٌ : جاننے والا حَلِيْمٌ : حلم والا
یہ (تمام احکام) اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا جس میں نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے
اللہ کی حدود تشریح : وراثت کے کچھ اصول بیان کئے گئے ہیں اور ان پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ یہ احکامات اور قانون مسلم ملت کو بیشمار جھگڑوں، فساد اور بےسکونی سے بچا سکتے ہیں۔ یہ تو صرف انسان کی بہتری کے لیے مقرر کئے گئے ہیں خود اللہ رب العزت کو تو اس میں کوئی فائدہ نہیں مگر ان آیات میں بہت سخت الفاظ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی وجہ سے ان قوانین میں ردو بدل کرے گا تو اس کو رب العالمین جہنم کا عذاب ضرور دے گا اور یہ عذاب ہمیشہ کے لیے دیا جائے گا۔ جیسا کہ کئی دفعہ بتایا جا چکا ہے کہ جہنم کا عذاب بڑا ہی شدید عذاب ہے۔ مگر ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے خوش خبری کا پیغام بھی دیا گیا ہے کہ جو شخص وراثت کی مقرر کی ہوئی حدوں، یعنی قانون اور اصول پر سختی سے عمل کرے گا اس کو دنیا میں بھی خوشی اور سکون ملے گا اور آخرت میں اس کو جنت میں داخل کیا جائے گا جہاں ہر قسم کا آرام، سکون اور عیش ہی عیش ہوگا اور یہ بہترین ٹھکانہ اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دیا جائے گا۔ اللہ رب العزت ہماری مدد فرمائے اور ہم سب مسلمانوں کو قرآن و حدیث پر سختی سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا کرے۔ آمین۔
Top